حرفِ اقبالؒ اور حِسِ بلوچستان
(گزشتہ سے پیوستہ) آج کی اس عالمی کانفرنس سے ہمیں یہ صدا بلند کرنی ہے کہ پاکستان صرف ایک ریاست نہیں، بلکہ اسلامی تمدن کا دفاعی مورچہ ہے۔ ہم اگر بیدار رہے، تو کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔
(گزشتہ سے پیوستہ) آج کی اس عالمی کانفرنس سے ہمیں یہ صدا بلند کرنی ہے کہ پاکستان صرف ایک ریاست نہیں، بلکہ اسلامی تمدن کا دفاعی مورچہ ہے۔ ہم اگر بیدار رہے، تو کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔
واعتصِموا بِحبلِ اللہِ جمِیعا ولا تفرقوا۔۔۔ سورۃ آل عمران، آیت 103 یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ یہ آیت دراصل امتِ مسلمہ کے وجودی فلسفے کا خلاصہ ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے
(گزشتہ سے پیوستہ) تاریخ کاپہیہ رکنے والانہیں،لیکن اس کے نشانات کبھی مٹتے نہیں۔جودوستی کبھی پنچ شیل کی بنیاد پر اٹھی تھی،وہ زمیں بوس ہوئی،اور جو مفاہمت، مفادات اوراخلاص کی فصل پرپروان چڑھی،وہ آج بھی قائم ہے فولادکی طرح مضبوط، اورموسموں
(گزشتہ سے پیوستہ) چین کے قبضے میں موجوداکسائی چن، بھارت کے دعوے کے مطابق لداخ کاحصہ ہے۔پاکستان کے زیرانتظام آزادکشمیراورگلگت بلتستان،بھارت کے نقشے میں ابھی تک اس کے دعوے کاحصہ ہیں،جبکہ چین اروناچل پردیش کو’’ژانگنان ‘‘یعنی جنوبی تبت کاحصہ گردانتا
یہ تاریخ کاایک نادرباب ہے کہ جہاں کل تک ہندی چینی بھائی بھائی کی صدائیں گونج رہی تھیں،آج وہاں تمام موسموں کے فولادی بھائیوں کی داستان رقم ہوچکی ہے۔یہ محض سیاسی تقرب کانتیجہ نہ تھابلکہ وقت کی سوئیوں کے سا
(گزشتہ سے پیوستہ) عورت کے تہذیبی کردار کا ذکر کیا جائے تو عورت کی شخصیت میں آفتابِ معرفت اور مہتابِ محبت یکساں جھلکتا ہے۔وہ گھر کی خاموش عبادت گاہ بھی ہے اور معاشرت کی روشن منڈیروں پر جلتا ہوا چراغ
عالمی کانفرنس کوئٹہ بلوچستان: برائے فکرِ اقبال میں پیش کردہ لیکچر خواتین و حضرات، معزز اہلِ دانش، اربابِ فکر و فن، اور افکارِ اقبال کے والہان طالب علموں السلام علیکم و رحم اللہ و برکاتہ۔ آج ہمارا موضوع نہ صرف
(گزشتہ سے پیوستہ) زندگی کی متاعِ عزیزکیاہے؟روپیہ پیسہ، زرو جواہر، زمینیں اورجائداد،منصب،جاہ وجلال، ناموری ،واہ واہ،دادوتحسین،صلہ وستائش، بیوی، یاردوست۔ بچےعزیزواقربا،محبت کیاہے ۔ کیایہی ہے زندگی کی متاعِ عزیز! توپھرنظریہ کیاہے،اصول کیاہے،حق وصداقت کیاہے، دار و رسن کیاہے،شہادت ،عشق کیاہے، بےغرضی
آج کا زمانہ وہ ہے جب امتِ مسلمہ کی وحدت شیرازے کی طرح بکھر چکی ہے۔ طاقت کے مراکز مغرب کے ہاتھ میں،ذرائع ابلاغ اور معیشت کے اعصاب عالمی سرمایہ داروں کے قبضے میں اور سیاسی فیصلے سامراجی ایجنڈوں کے
(گزشتہ سے پیوستہ) اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے اقبالؒ نے تین بنیادیں بیان کیں جو حقیقت میں سورہ العصر کی تشریح ہے۔ خودی کی بیداری،انسان اپنی ذات کو پہچانے عملِ صالح،ایمان کوحرکت میں بدلے،اجتماعی عدل،امت کے نظامِ حیات کو