مبارک ثانی کیس کے فیصلے پر ایک اہم مشاورت
اٹھائیس اگست کو اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی دعوت پر مبارک ثانی کیس کے بارے میں سپریم کورٹ کے نئے فیصلہ پر ایک اہم مشاورت میں شرکت کا موقع ملا جس کی انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری
اٹھائیس اگست کو اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی دعوت پر مبارک ثانی کیس کے بارے میں سپریم کورٹ کے نئے فیصلہ پر ایک اہم مشاورت میں شرکت کا موقع ملا جس کی انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری
(گزشتہ سےپیوستہ) جناب سپیکر!آزادی اورغلامی میں کیافرق ہے،اس کااندازہ ہرآئے دن شہیدہونے والے نہتے فلسطینیوں سے پوچھ لیں یاپھران کشمیریوں سے پوچھ لیں جن کاوکیل ہونے کاہم دعویٰ کرتے ہیں۔کشمیریوں پرہونے والے ظلم وستم کااندازہ آپ کیالگائیں گے کہ جس
اگرسننے والے مزاج آشناہوں توگفتگوکرنے کامزاآتاہے اوران سب کی سننے کی خواہش بھی مزادیتی ہے لیکن پتہ نہیں ان دنوں طبیعت کیوں بوجھل سی رہتی ہے۔اردگرد سناٹاہے اورجذبات کی شائیں شائیں نے کپکپی طاری کررکھی ہے۔ گزشتہ چندنوں سے ٹیلیفون
(گزشتہ سے پیوستہ) اقبالؒ آخردم تک اپنے تصورِپاکستان کوقیامِ پاکستان کی صورت میں جلوہ گردیکھنے کی تمنامیں سرشاررہے۔ قائداعظم کے ایک ادنیٰ سپاہی کی حیثیت میں سرگرمِ عمل رہے اوراسلامیانِ ہندکویہ مشورہ دیتے رہے کہ میری زندگی کی دعائیں مانگنے
برصغیرکی تقسیم جیسی زمینی حقیقت کے بعداب تاریخ کوجھٹلانے یاان حقیقی خاکوں میں جھوٹ وبدنیتی کارنگ بھرکرتاریخی واقعات کی شکل بگاڑکرنئی نسل کوگمراہ کرکے اقبال سے بدظن کرنے کی کوشش ایسے ہی ہے جیسے چاندپرتھوکاواپس اپنے منہ پرگرتاہے۔8دہائیوں کے گزرنے
(گزشتہ سے پیوستہ) انہوں نے اسلام کو زندگی بخش قوت قرار دیتے ہوئے فرمایا ’’اسلام ایک زندہ قوت ہے جو ذہن ِ انسانی کونسل ووطن کی قیود سے آزاد کر سکتی ہے جس کا عقیدہ ہے کہ مذہب کو فرد
علامہ اقبال کا کلام انسانی فکر و عمل کی تاریخ کا نہائت دقیق تجزیہ ہے۔انہوں نے اپنی غیر معمولی بصیرت کی بنا پر تاریخی حوادث سے متعدددورس نتائج اخذکئے،بعض وہ نتائج بھی جو ابھی رونما نہیں ہوئے تھے۔ان کا یہ
ہم اس معجزے سے کس طرح انکار کرسکتے ہیں کہ پاکستان،نزولِ قرآن،لیلتہ القدر کی بابرکت ساعتوں میں27رمضان المبارک 1366ھ بمطابق 14اگست1947 ء کو وجودمیں آیااوریقینایہ اللہ تبارک وتعالیٰ کامسلمانانِ برِعظیم کیلئے ایک عظیم تحفہ سے کم نہیں،یوں یہ معجزاتی مملکتِ
سیاست کے میدان میں قدم رکھنے والی مقتدر شخصیات کے چند ہونہار،نونہال آج نہ صرف ارب پتی بلکہ کھلے بندوں اپنی بیش بہادولت کابھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔کتنے ہی اعلیٰ عہدوں پرفائز سرکاری افسر، سیاستدان اورٹیکنوکریٹ بیرونی ممالک میں دادِعیش
(گزشتہ سے پیوستہ) اپنی ذات سے متعلق تمام رنجشیں بھلاکراپنے مخالفین اوردشمنوں کے ساتھ مضبوط دلائل کے ساتھ پاکستان کامقدمہ لڑا، مسلمانوں کی توانائی کو صحیح سمت گامزن کرکے دنیاکے نقشے میں ایک نیاملک پاکستان قائم کرکے دکھادیا ، جس