بدلتے نظام میں ابھرتی امید
قوموں کی تاریخ میں کچھ ادوار ایسے ہوتے ہیں جب الفاظ کم اور فیصلے زیادہ بولتے ہیں۔جب ریاستی نظام کی سمت کا تعین تقریروں سے نہیں بلکہ خاموش مگر مسلسل اصلاحات سے ہوتا ہے۔یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو آنے
قوموں کی تاریخ میں کچھ ادوار ایسے ہوتے ہیں جب الفاظ کم اور فیصلے زیادہ بولتے ہیں۔جب ریاستی نظام کی سمت کا تعین تقریروں سے نہیں بلکہ خاموش مگر مسلسل اصلاحات سے ہوتا ہے۔یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو آنے
دسمبر ہمیشہ سے محض ایک مہینہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی تاریخ کے تسلسل میں ایک علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔ سال کا آخری مہینہ ہمیں جہاں گزرے وقت کا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتا ہے وہیں نئی سمت، نئے
عالمی سیاست کے اس ہنگامہ خیز منظرنامے میں پاکستان ایک اہم، حساس اور نہایت فیصلہ کن مقام رکھتا ہے۔ یہ محض ایک ملک نہیں بلکہ جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے انتہائی اہم خطے کا مرکز، اسلامی دنیا کی ایک بڑی
پاکستان کی تاریخ محض چند واقعات، چند تاریخی موڑ یا چند نعروں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک طویل اور مسلسل جدوجہد، فکری بیداری، تہذیبی شعور، سیاسی بصیرت اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری سے جڑی ایک عظیم داستان ہے۔ جس
قوموں کی زندگی میں کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ بدلتی نہیں بلکہ مزید پختہ ہوتی چلی جاتی ہیں۔اسی طرح کچھ معاشرے ایسے ہوتے ہیں جن کی پہچان ان کے محض جغرافیے سے نہیں بلکہ ان کے
انسانی تہذیب جب اپنے اولین دور سے سفر شروع کرتی ہے تو وہاں صرف پتھر کے زمانے کی سختی، جسمانی طاقت اور بقا کی جنگ ہی نہیں تھی بلکہ ساتھ ساتھ ایک ایسی رحمت بھری اور انسانیت نکھارنے والی قوت
اکیسیویں صدی میں حکمرانی محض اقتدار سنبھالنے یا ریاستی نظام چلانے کا نام نہیں رہی، بلکہ یہ ایک کسوٹی بن چکی ہے جس پر ریاستوں کی سنجیدگی، بصیرت اور ذمہ داری کو پرکھا جاتا ہے۔آج سوال یہ نہیں کہ کسی
دنیا میں مختلف شخصیات گزری ہیں اور ہر شخصیت میں کوئی نہ کوئی ایسا پہلو ضرور ہوتا ہے جو ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، کسی کا علم ہمیں متاثر کرتا ہے، کسی کا اخلاق ہمارے دل میں جگہ بنا
انسانی تاریخ کے اوراق اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ تہذیبوں کا عروج صرف عمارتوں، فتوحات اور معیشتوں سے نہیں جانچا جاتا، بلکہ اس بات سے پرکھا جاتا ہے کہ ایک معاشرہ اپنے انسانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا
شہروں کی چمکتی روشنیوں، بڑھتی آبادیوں، لمبی اونچی عمارتوں، تیز رفتار سڑکوں اور صنعتوں کی قطاروں نے بظاہر ایک ترقی یافتہ منظر پیش کیا ہے مگر اسی منظر کے پس منظر میں ایک گہری دھند، ایک سیاہ پردہ، ایک مریضانہ