MBS کی طرف سے الشیخ ماہر المعیقلی کی امام حج تعیناتی
ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹا کرتی ہے‘ کل شیئی یرجع الی اصلہ۔ یہ عرب حکماء کا فرمان ہے اور MBS جنہیں عوامی سطح پر مسٹرایوری تھنگ MR EVERY THING کہا جاتا ہے کے بارے میں میرا وجدان اکثر
ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹا کرتی ہے‘ کل شیئی یرجع الی اصلہ۔ یہ عرب حکماء کا فرمان ہے اور MBS جنہیں عوامی سطح پر مسٹرایوری تھنگ MR EVERY THING کہا جاتا ہے کے بارے میں میرا وجدان اکثر
ماشاء اللہ محمد بن سلمان کو ایران کے عہد معاصر کے موجودہ صدر محمد مخبر نے دورہ ایران کی دعوت دی ہے۔ محمد بن سلمان نے یہ ایرانی دعوت قبول کرلی ہے اور انشاء اللہ وہ بہت جلد تہران میں
ایران محض شہنشاہیت، محض زرتشت ازم نہیں تھا نہ ہی ایران محض فردوسی کا شاعرانہ تعلی کا رستم و سہراب ہے بلکہ ایران تبریز بھی ہے۔وہی جہاں کا شمس تبریز مشہور ہے اور ایرانی قم بھی ہے جو شعور، آگاہی،
سیرت النبیﷺ کا موضوع بچپن سے دلچسپی کا باعث تھا‘ رحمتہ اللعالمین از قاضی سلیمان پڑھی‘ بعد ازاں شوق رہا‘ سرسید احمد نے بہت محبت سے ذات نبیؐ پر وارد مسیحی اعتراضات کا جواب لکھا‘ اپنا سب کچھ دفاع ناموس
فلسطین و غزہ انسانی مسئلہ ہے یا عرب مسئلہ یا اسلامی مسئلہ؟ جو اذہان اسے اسلامی مسئلہ، دینی مسئلہ، مذہبی مسئلہ بناتے ہیں وہ یوم القدس سے وابستہ ہوتے ہیں جو اسے فلسطینی عرب مسئلہ بتاتے ہیں وہ مسئلہ فلسطین
اگر محمد بن سلمان نے محض تیل ‘ پٹرول پر معاشی انحصار کرنے کی بجائے معاشی نئے ’’موارد‘‘ اور ’’مطالع‘‘ اور ’’ذرائع‘‘ کے طور پر نیوم تہذیب و تمدن کا خیال بھی اپنالیا ہے تو یہ معاملہ ان کے مستقبل
ماشاء اللہ شہباز شریف دوسری بار وزیراعظم ہیں جبکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے تیسری بار پاکستان آنے سے سخت پرہیز کیا ہے۔ کیا اس با ر ولی عہد داخلی طور پر مصروف یا کسی ’’کشمکش‘‘ سے دوچار
شہباز شریف نے کیا خوش قسمتی پائی ہے؟ وزیراعظم بننا ان کی ہمیشہ سے مکمل خواہش تھی ، انہوں نے کوشش کی تھی کہ وہ جنرل باجوہ کو تیسری توسیع دے دیں۔ شاہد خاقان عباسی اور ن لیگ کے اکثر
مشرق وسطیٰ مستقل طور پر زیر مطالعہ رہتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی وہ کون سی طاقتیں، اقوام اورممالک ہیں جو خود کو سپر طاقت سمجھتی رہی ہیں مشرق وسطیٰ میں۔ کسی زمانے میں یہ اکیلا
امام خمینی کے یوم القدس کے حوالے سے تو کئی بار لکھ چکا ہوں۔ مگر فلسطین پر رضا شاہ پہلوی کا موقف سامنے آیا تو ساتھ ہی آیت اللہ علی خامنہ ای کا آزادی فلسطین پر یقین محکم بھی سامنے