حضرت شیخ المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاءؒ
(گزشتہ سے پیوستہ) حضرت سلطان المشائخ ؒفرمایا کرتے تھے کہ ایک رات کا ذکر ہے کہ آخر شب کا وقت تھا میں کیا دیکھتا ہوں کہ مکان کے صحن میں ایک عورت جھاڑو دے رہی ہے میں نے پوچھا تو
(گزشتہ سے پیوستہ) حضرت سلطان المشائخ ؒفرمایا کرتے تھے کہ ایک رات کا ذکر ہے کہ آخر شب کا وقت تھا میں کیا دیکھتا ہوں کہ مکان کے صحن میں ایک عورت جھاڑو دے رہی ہے میں نے پوچھا تو
ایک دفعہ مسلسل کئی دن کا فاقہ ہوگیا پڑوس کی ایک نیک بی بی نے کچھ بھیجا‘شیخ کمال الدینؒ نے آٹے کو مٹی کے ایک برتن میں ڈال کر آگ پر چڑھادیا اسی وقت ایک گڈری پوش درویش آپہنچا اور
آپ کا اسم گرامی محمد ہے اور متعدد القابات سے یاد کیے جاتے ہیں ‘جس میں محبوب الٰہی ،سلطان اولیاء سلطان المشائخ،سلطان السلاطین زیادہ مشہور ہیں‘ حضرت شیخ المشائخ کا خاندان بخارا سے ہجرت کرکے لاہور آیا،پھر وہاں سے بدائیون
بعض لوگوں کے خیال میں سوشل میڈیا بند کرنا ممکن نہیں، لیکن اس کا غلط استعمال روکنا تو ممکن ہے۔ ہمیں نوجوانوں، طلبہ، والدین، علماء ، حکام اور سوسائٹی کے ہر فرد کو سوشل میڈیا کے فتنوں سے آگاہ کرنا
(گزشتہ سےپیوستہ) انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! ’’قریب آئو‘‘ دوبارہ ان کے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیںحضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ
(گزشتہ سے پیوستہ) ایک موقع پر حضرت اسید بن حضیرؓنے بھی گزارش کی کہ آپﷺ یہ اینٹیں مجھے دے دیں مگر آپﷺ نے فرمایا: ’’ تم دوسری جا کر لے آئو‘ اللہ تعالیٰ کی طرف نیکیاں حاصل کرنے میں تم
(گزشتہ سے پیوستہ) میں نے تعمیل ارشاد میں انہیں آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ۔ آپ نے ان سے دریافت کیا کہ کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم طائف کے باشندے ہیں ‘ حضرت
اللہ تعالیٰ نے ا خلاق حسنہ کی دولت سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو عطا فرمائی اورحضرت آدم علیہ السلام سے انبیاء اور رسولو ں نے تر کہ میں پائی ہے یہاں تک کہ حضرت سیدعالم ﷺتک پہنچااور
مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کے بدترین گستاخوں کو قانون کی گرفت میں لانے کا سلسلہ شروع ہوا تو ان گستاخوں کو تحفظ دینے کے لئے کچھ لبرلز،سیکولرز نے یہ واویلا شروع کر دیا کہ’’بے گناہ لوگوں پر توہین رسالت
مرزا جہلمی، رسالت مآب ﷺکی گستاخی کے الزام میں گرفتار ہو چکا ہے ،مرزا جہلمی کی حالیہ گستاخیوں پر صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائی بھی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ،شدت پسندی کی کوکھ سے جنم لینے والے لنڈے