Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

گریٹر اسرائیل، اکھنڈ بھارت امن عالم اور بھڑکتی آگ

مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک آج دو اصطلاحات مسلسل زیرِ بحث ہیں: گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت۔ بظاہر یہ دو الگ خطوں کی بات لگتی ہے مگر حقیقت میں ان کے پس منظر، عزائم اور سیاسی اثرات میں حیرت انگیز مماثلت موجود ہے۔ حالیہ دنوں میں اس بحث کو مزید تقویت اس وقت ملی جب بھارتی وزیر اعظم نریندر

روبوٹس خادم، انسان حاکم

انسانیت ایک عظیم تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ یہ تبدیلی صرف ٹیکنالوجی کی نہیں بلکہ روح، شعور اور معاشرتی نظام کی بھی ہے۔ صدیوں سے انسانی زندگی ضروریات کے گرد گھومتی رہی ہے، روزگار، کھانا پکانا، گھر سنبھالنا اور مسلسل محنت۔ انہی ذمہ داریوں نے انسان کو اکثر اس کے اصل مقصد اپنے خالق کی پہچان اور اس کی

ایران پر اسرائیلی امریکی جارحیت اور ایک غیر یقینی عالمی منظرنامہ

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے خطرناک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ہر گزرتا دن حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ بظاہر سفارتکاری کی کوششیں جاری ہیں، بیانات میں نرمی بھی دکھائی دیتی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ایک بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو صرف میدانِ جنگ

تعمیراتی صنعت میں انقلاب،سیمنٹو کا ریڈی مکس کنکریٹ میں زبردست قدم

تحریر :عزیر احمد خان لاہور کا تعمیراتی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جہاں رہائشی، کمرشل اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ریڈی مکس کنکریٹ کی مانگ کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ اسی بدلتے ہوئے منظرنامے میں سیمنٹو ریڈی مکس کنکریٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ایک نئے لیکن مضبوط دعوے کے ساتھ مارکیٹ میں داخل ہوئی

آسیہ اندرابی، سوال جو دبایا نہ جا سکا

(گزشتہ سے پیوستہ) بھارتی حکومت نےآسیہ اندرابی پرمتعدد مقدمات قائم کیے،جن میں سب سے اہم مقدمہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے درج کیا گیا۔انہیں یواے پی اے اوربھارتی پینل کوڈ کی دفعات کے تحت قصوروارقراردیاگیا۔عدالت نے انہیں عمرقیدکی سزا سنائی جبکہ ان کی ساتھیوں صوفی فہمیدہ اورناہیدہ نسرین کوبھی طویل قید تیس سال کی سزادی گئی۔ آسیہ اندرابی

تین میں، نہ تیرہ میں

برصغیر جنوبی ایشیاء کی تہذیبی روایت میں رسم و رواج کو ہمیشہ ایک خاموش مگر باوقار اختیار حاصل رہا ہے۔ یہ رسوم محض سماجی ضابطوں تک محدود نہیں تھیں بلکہ زندگی کی جذباتی ساخت کی تشکیل بھی انہی کے ہاتھوں ہوئی۔ خوشی کا کوئی لمحہ اس وقت تک مکمل نہیں سمجھا جاتا تھا جب تک اسے روایت کی مہر نہ

کالم پروفائل