Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

ہماری زندگی کا مقصد

ہماری زندگی کا مقصد کیا ہونا چاہیے؟ ہم میں سے بیشتر لوگ آج تک اس سے غافل ہیں۔سراغ زندگی میں جن کا کوئی مقصد نہیں ہوتا وہ حیات میں بے ثمر رہتے ہیں۔اسلامی نقطہ نظر سے ہماری زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی معرفت،اس کی عبادت یعنی بندگی اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔درحقیقت یہ ایک عارضی زندگی

آئینی حقوق سے عملی مساوات تک کا سفر

قوموں کی پائیدار تعمیر ہمیشہ اس اصول پر ہوئی ہے کہ ہر انسان کو اس کی مکمل انسانی حیثیت کے ساتھ تسلیم کیا جائے اور یہی اصول ہمیں صنفی مساوات کی بحث تک لے آتا ہے۔صنفی مساوات محض ایک سماجی اصطلاح نہیں بلکہ ایک فکری اور آئینی تصور ہے جو انسانی وقار، مساوی مواقع اور انصاف پر مبنی معاشرے کی

ایک قوم،ایک احتساب،ایک فیصلہ

(گزشتہ سے پیوستہ) یہ حال صرف انہی کانہیں جنہیں حالات کی سمجھ عطاہوئی ہے،مگرانہی کے سینے میں یہ دردآبلہ بن چکاہے۔انہی کی نیندیں اڑچکی ہیں یہی حال آج ان لوگوں کاہے جن کے سینے میں پاکستان کا دردناسوربن چکاہے۔جن کے دل چین سے محروم ہیں۔نیم شب جب وہ اپنے رب کے حضورسجدہ ریزہوتے ہیں تو ہچکیاں بندھ جاتی ہیں۔وہ پاکستان

رمضان اور اصلاحِ کردار

ماہِ مبارک رمضان قریب آتا ہےتو انسان خود بخود غور و فکر کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ مجھے اشفاق احمد صاحب کی ڈائری میں درج ایک دلکش مگر گہرا واقعہ یاد آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اُن کےدفتر میں ایک جاپانی ساتھی، میوا نامی ایک نوجوان خاتون، نے رمضان کے آغاز پر اُن سے سوال کیا: ’’آپ پورا

مصنوعی ذہانت اور انسانی مستقبل پر ایک مکالمہ

رمضان کی فضاء میں ایک فکری مکالمے کے دوران ایک غیر معمولی خیال سامنے آیا،اے آئی ہمیشہ روزے میں ہے۔انسان مخصوص دنوں اور مہینوں میں روزہ رکھتے ہیں۔مصنوعی ذہانت نہ کھاتی ہے، نہ پیتی ہے۔نہ سوتی ہے، نہ خواہش رکھتی ہے۔نہ اسے بھوک لگتی ہے، نہ نفس کا دبائو، نہ شہرت کی طلب۔اس محدود معنی میں وہ ہمیشہ ضبط میں

رمضان میں مہنگائی کا طوفان

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور ایثار کا مہینہ ہے۔ یہ وہ ماہ معظم ہےجب آسمان کی طرف اٹھنے والے ہاتھوں میں التجا بھی ہوتی ہے اوردلوں میں انسانیت کا درد بھی، مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرےمیں یہ مہینہ روحانی مسرت کے بجائے معاشی اذیت کی علامت بنتاجا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف مساجد آباد ہوتی ہیں، وہیں بازار بے رحم

کالم پروفائل