عصرِ حاضر میں میڈیا کا کردار
پرنٹ میڈیا کے بعد پچھلی ایک دہائی سے الیکٹرانک میڈیا کے اثرات،عوام و الناس پر بہت گہرے،مثبت اور شاید منفی بھی ہیں۔یقینی طور پراخبار میں لکھے گئے اور ٹی وی پر دکھائے گئے مناظر اپنے اثرات چھوڑتے ہیں۔اب یہ پڑھنے
پرنٹ میڈیا کے بعد پچھلی ایک دہائی سے الیکٹرانک میڈیا کے اثرات،عوام و الناس پر بہت گہرے،مثبت اور شاید منفی بھی ہیں۔یقینی طور پراخبار میں لکھے گئے اور ٹی وی پر دکھائے گئے مناظر اپنے اثرات چھوڑتے ہیں۔اب یہ پڑھنے
انصاف کسی بھی معاشرے میں توازن، مساوات، اخلاقیات اور عدل کا بنیادی تصور ہے۔ جس کا مطلب ہر ایک کو اس کا حق دینا،ظلم سے پرہیز اور عدل قائم کرنا ہے۔یہ صرف عدالت یا عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ
موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں صراحت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حالات کسی طرح بھی خوش کن نہیں۔سیاسی ادراک رکھنے والے تجزیہ کار موجودہ سیاسی حالات کی جو تصویر کشی کر رہے ہیں۔اسے دیکھ کر لگتا
سیاست میں بھونچال کی سی کیفیت ہے۔ایک طوفان بدتمیزی ہے جو عرصے سے سیاست کے ایوانوں میں بپا ہے۔پی ٹی آئی کیا چاہتی ہے؟ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔اڈیالہ میں بیٹھا ایک شخص (بانی پی ٹی آئی) ڈھٹائی سے
دنیا میں58 ممالک ایسے ہیں جن میں سزائے موت قانونی طور پر اب بھی فعال ہے-جبکہ 95 ممالک اس سزا کو کالعدم قرار دے چکے ہیں۔یورپی یونین میں سزائے موت پر بنیادی حقوق کے چارٹر کے مطابق پابندی عائد ہے۔ایمنسٹی
دنیا میں58 ممالک ایسے ہیں جن میں سزائے موت قانونی طور پر اب بھی فعال ہے-جبکہ 95 ممالک اس سزا کو کالعدم قرار دے چکے ہیں۔یورپی یونین میں سزائے موت پر بنیادی حقوق کے چارٹر کے مطابق پابندی عائد ہے۔ایمنسٹی
چند دن پہلے ٹی وی پر ایک ویڈیو کلپ میں صدر ٹرمپ کے پہلو میں ایک وجہ یہ قامت، خوش شکل نوجوان کھڑا نظر آیا- جس کی پہچان زہران ممدانی کے نام سے ہوئی۔اس نوجوان نے نیویارک کی تاریخ ہی
قانون کسی بھی ملک کا وہ بنیادی آئینی ڈھانچہ ہے جو اختیارات و فرائض کی ہیئت بیان کرتا ہے۔نیز شہریوں کے بنیادی حقوق یقینی بناتا ہے یہ ضابطوں کا ایسا مجموعہ ہے جس کی بنیاد پر ملک کا نظام چلایا
اسلام آباد کچہری کے باہر اور وانا کیڈٹ کالج میں دہشت گردی کے جو دو واقعات ہوئے۔ان کے تانے بانے بھارت اور افغانستان سے ملتے ہیں۔ یہ کہنا ہے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر دفاع خواجہ محمد
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ حال ہی میں قائم ہونے والا پنجاب پولیس کا خصوصی ادارہ ہے، جس نے عادی مجرموں پر غلبہ اور خوف طاری کر رکھا ہے۔پنجاب پولیس کے ترجمان کا دعوی ہے کہ سی سی ڈی کے باعث صوبے