6ستمبر 1965، پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری باب
6 ستمبر 1965ء کی جنگ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار واقعہ ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کو اجاگر کیا بلکہ قوم کی استقامت اور عزم کو بھی ثابت کیااور قوم کے جذبے
6 ستمبر 1965ء کی جنگ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار واقعہ ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کو اجاگر کیا بلکہ قوم کی استقامت اور عزم کو بھی ثابت کیااور قوم کے جذبے
پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور ورلڈ بینک پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں مشترکہ طور پر پاکستان کی سیاحت کو اجاگر کرنے اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان روابط پیدا کرنے کے لیے ’’سیاحت کے
(گزشتہ سے پیوستہ) آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں اپنی حالیہ شرکت کے دوران، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے اہم مسئلے پر زور دیا، اور اسے تمام رکن ممالک کے لیے ایک
شنگھائی تعاون تنظیم2024 ء کا سربراہی اجلاس، جو آستانہ میں منعقد ہوا، علاقائی تعاون کو فروغ دینے اور عصری جغرافیائی سیاسی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ سربراہی اجلاس میں پاکستان کے موقف اور
جمہوریہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمن کی دعوت پر وزیر اعظم شہباز شریف نے 2تا 3 جولائی 2024ء کو تاجکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ملاقاتوں کے دوران دونوں فریقوں نے تاجکستان اور پاکستان کے درمیان کثیر جہتی تعاون کو مزید
کبھی کبھی زندگی میں ایسے مواقع بھی آجاتے ہیں کہ جب لوگ اپنے گھروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے جلتا ہوا دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن بے بس ہوتے ہیں۔ ہماری زندگی میں 9 مئی کا منحوس دن ایسا آیا
قوموں کی زندگی میں کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں جو انتہائی قہر آلود ہوتے ہیں جو لاکھ بھلانے کے باوجود ذہن میں ایسے نقش ہو جاتے ہیں کہ مٹتے نہیں۔خصوصاً جب زہر آلود غلیظ ترین سیاست اپنی گندگی کے
پاکستان کی معیشت اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے اور موجودہ حکومت اسے سنبھالا دینے کے لیے سرتوڑ کوششوں میں مصروفِ عمل ہے۔بہت سے دوست ممالک کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ان کو پاکستان میں بڑی
پاکستان اور سعودی عرب اقتصادی شراکت داری کے ذریعے متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مرحلے میں داخل ہونے والے ہیں کیونکہ 50 لوگوں کا ایک اعلیٰ سطحی سعودی تجارتی وفد اسلام آباد آیا تھا جس کا مقصد مختلف
شہباز شریف نے دوسری مرتبہ وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔بہت خوشی ہوئی۔سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوئی جب ایک دن انہوں نے حلف اٹھایا اوردوسرے دن صبح سویرے تقریباً 7بجے وہ راول ڈیم چوک میں نالائق ٹھیکیداروں اور نا اہل