ایک فکر انگیز خط
پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی میں میڈیا بالخصوص الیکٹرانک چینلز کے کردار کے حوالے سے عوام کی رائے کیا ہے،اس کا اندازاہ کراچی سٹی کورٹ کے سینئر وکیل ایڈووکیٹ منظور تنولی کے خط سے لگایا جا سکتا ہے،جو
پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی میں میڈیا بالخصوص الیکٹرانک چینلز کے کردار کے حوالے سے عوام کی رائے کیا ہے،اس کا اندازاہ کراچی سٹی کورٹ کے سینئر وکیل ایڈووکیٹ منظور تنولی کے خط سے لگایا جا سکتا ہے،جو
بدنام زمانہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف کراچی کے علماء و مشائخ کا متحرک ہونا قابل ستائش ہے، پیر کے دن مقامی ہوٹل میں منعقدہ علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس پاکستان کے سربراہ دارالعلوم کراچی کے مہتمم
2 جون2013 ء شیخ العرب و العجم عالم ربانی عارف باللہ حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر نور اللہ مرقدہ کا یوم وصال ہے۔حضرت والا کو ہم سے بچھڑے گیارہ برس مکمل ہونے کو ہیں،لیکن قدم قدم پر آج
اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دین ’’دین اسلام‘‘ کو تمام ادیان عالم میں یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے اپنے پیروکاروں کو زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں تفصیلی ہدایات دی ہیں اور اس سلسلے میں قرآن و سنت
(گزشتہ سے پیوستہ) آسیہ مسیح کیس میں ابتدائی تحقیقات اور گواہوں کے بیانات ایک سب انسپکٹر نے قلمبند کئے تھے اور پھر بعد میں مذکورہ کیس ایس پی کو ٹرانسفر کیا گیا تھا،بالکل اسی طرح اس کیس میں بھی صرف
سوشل میڈیا پرمقدس ہستیوں بالخصوص حضورﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی پانےوالے ملزم ملعون سمیع اللہ کی ضمانت منسوخ کرنےکےلئےمدعی مقدمہ مرکزی جنرل سیکرٹری تحریک تحفظ ناموس رسالت
سوشل میڈیا میں فیس بک،واٹس ایپ،یو ٹیوب ، ایکس،انسٹاگرام وغیرہ وغیرہ شامل ہے،سوشل میڈیا کے یہ سارے ٹولز مذہب اسلام اور پاکستان کے نظریاتی تشخص پر حملہ آور ہیں، حضرت اقدس پیرومرشدحفظہ اللہ نے بالکل درست فرمایا تھا، کہ ’’اللہ
عریانی و بے حیائی کے تمغے سجانے کے بعد اب بعض الیکٹرانک چینلز فحش گوئی ،غلیظ ترین جملے،یعنی جغت بازی، گرل فرینڈز ،بواے فرینڈز اور ہم جنس پرستی کے بدبودار کلچر کو ملک میں پروان چڑھانے کی نرسریاں بن کے
سب سے پہلے میٹھے میٹھے کشمیری بھائیوں کو اپنے حقوق کی جنگ جیتنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ،میرے میٹھے میٹھے کشمیری بھائیوں نے اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایک منظم اور کامیاب جہدوجہد کے ذریعے ’’تپسی تے ٹھس کرسی‘‘
اتباع ، محبت کی سب سے بڑی علامت اور محبت کی ترقی میں قومی تاثیر رکھتی ہے ، اتباع کا محبت کی علامت ہونا تو عیاں اورظاہر ہے ، کیوں کہ محبت کرنے والا ہمیشہ اپنے محبوب کی موافقت کرتا