اقبالؒ اور اسلام کی نشاۃِ ثانیہ
یہ لمحہ فکری مسرت کا ہے کہ آج بلوچستان کی علمی فضا میں جہاں پہاڑوں کی سنگینی دلوں کی غیرت سے ہم آہنگ ہے ہم اس مفکرِ ملت کو یاد کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جس نے غلام ذہنوں
یہ لمحہ فکری مسرت کا ہے کہ آج بلوچستان کی علمی فضا میں جہاں پہاڑوں کی سنگینی دلوں کی غیرت سے ہم آہنگ ہے ہم اس مفکرِ ملت کو یاد کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جس نے غلام ذہنوں
(گزشتہ سے پیوستہ) پاکستانی قیادت نے تشویش ظاہرکی کہ افغان حکومت انڈین حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف کارروائی کی بجائے انہیں سہارافراہم کر رہی ہے۔ اورپاکستان نے واضح شواہداور ناقابل تردیدثبوت مذاکرات کی میزسجانے والے ثالثوں کے سامنے بھی پیش
تاریخ کے صفحات پراگرکوئی قوم ایثارو وفا کے حوالے سے لکھی جائے گی توپاکستان کانام سونے کے حروف سے رقم ہوگا۔چالیس برس ہونے کو آئے،اس سرزمینِ طیبہ نے اپنے افغان بھائیوں کیلئے نہ صرف خندقیں کھودیں نہ دیواریں، بلکہ دلوں
(گزشتہ سے پیوستہ) پاکستانی حکومت پرسوشل میڈیااورعوامی حلقوں کی جانب سےیہ سوال اٹھایاگیاکہ وزیراعظم نے عوام کواعتمادمیں لئےبغیرٹرمپ کےمنصوبےکا خیرمقدم کیسے کیا؟وزیراعظم کو عوام کو اعتمادمیں لیے بغیرکوئی حق نہیں کہ وہ امریکی منصوبے کی حمایت کریں۔ یہ سوال پاکستان
آج ہم ایک ایسے دورِآزمائش میں کھڑے ہیں جس کاوزن تاریخ کے ترازوپرتولنے سے ہلکانہیں ہوتا۔تاریخ کے اوراق پربعض زخم ایسے ثبت ہوجاتے ہیں جووقت کی گردسے مٹتے نہیں بلکہ ہرصدی کے ساتھ اورنمایاں ہوجاتے ہیں۔ فلسطین کاقضیہ بھی انہی
(گزشتہ سے پیوستہ) اقبالؒ کی کشتِ ویراں سے ناامیدنہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے ایک خواب دیکھاایک آزادمملکت کاخواب، جہاں مسلمان اپنی تہذیب اورایمان کے مطابق زندگی گزارسکیں۔وہ خواب بعدمیں پاکستان کی صورت میں
قومیں ہمیشہ آسائش کے لمحوں میں نہیں بلکہ آزمائش کے اندھیروں میں پہچانی جاتی ہیں۔یہ وہ گھڑیاں ہیں جب دلوں پرمایوسی چھا جاتی ہے،آنکھوں سے خواب رخصت ہونے لگتے ہیں، اورسینے میں امیدکادیامدھم پڑجاتاہے۔ ہماری تاریخ بھی ایسے موڑوں سے
(گزشتہ سے پیوستہ) چیرین دورجے کی پکارمیں آئینی روح بولتی ہے، چیرین دورجے لاکرک کی زبان میں جوآگ ہے،وہ مایوسی نہیں،ایمان ہے۔وہ کہتا ہے:ہم جرم نہیں کررہے،وعدہ یاددلارہے ہیں ،وعدہ خلافی کے جواب میں گولی نہیں،انصاف چاہیے۔یہ صدا گویا آئین
(گزشتہ سے پیوستہ) افغان ماہرین کاخیال ہے کہ طالبان قیادت ٹی ٹی پی کواپنانظریاتی ہمزادسمجھتی ہے ،آٹھویں اورنویں دہائیوں کی مشترکہ جدوجہدنے ان کے رشتوں کوایسا جوڑا ہے کہ جداکرنامحض سیاسی فیصلوں کاکھیل نہیں۔ دونوں تحریکوں نے تاریخ کی پچ
خطہ افغانستان اورپاکستان کی داستانِ قربت وکشمکش صدیوں پرمحیط ہے۔تاریخ نے بارہا دیکھا کہ جب بھی اس خطے کے آسمان پرامن کے بادل گھنے ہونے لگتے ہیں،کوئی نہ کوئی آندھی سازشوں کی سمت سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔کبھی یہ شعلے