عہد نوکاسنگِ میل
تاریخ کے صفحات پرجب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تویہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں نظرآتی ہے کہ امتیں صرف شمشیروسناں سے نہیں بلکہ اتحادویکجہتی،بصیرت وحکمت اورباہمی اعتماد سے زندہ وتابندہ رہتی ہیں۔ حجازکی سرزمین،جہاں سے کلم اللہ کی صدابلند ہوئی
تاریخ کے صفحات پرجب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تویہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں نظرآتی ہے کہ امتیں صرف شمشیروسناں سے نہیں بلکہ اتحادویکجہتی،بصیرت وحکمت اورباہمی اعتماد سے زندہ وتابندہ رہتی ہیں۔ حجازکی سرزمین،جہاں سے کلم اللہ کی صدابلند ہوئی
(گزشتہ سے پیوستہ) چین نے پہلی بارواضح اعلان کیاکہ تائیوان کوچین میں شامل کرنے کاوقت قریب ہے،تائیوان ہماراہے اورہم اسے لے کررہیں گے۔اپنی بحری وفضائی طاقت کے مظاہرے نے دنیاکویہ باورکرادیاکہ اب مشرقی ایشیامیں کوئی فیصلہ ہماری مرضی کے بغیرنہیں
(گزشتہ سے پیوستہ) یہ پیغام مغرب اورمشرق دونوں ایوانوں کے لئے ہے،یہ اعلان ہے اسرائیل کے قلعوں کیلئے،یہ تنبیہ ہے ان طاقتوں کے لئے جوسمجھتی تھیں کہ مسلم دنیاکبھی یکجا نہیں ہوسکتی۔آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ عالم اسلام بکھری
اے اہلِ وطن!آج ہم اس لمحے کے دہانے پرکھڑے ہیں جوصدیوں کی خاموشی اورآزمائش کے بعدہمارے لیے روشن روشنی لے کر آیاہے۔وہ لمحہ جب امتِ مسلمہ کے لئے ہرزمین کے ذرے میں شعورکی چمک،ہرآسمان میں امیدکانوراور ہردل میں عزم وغیرت
(گزشتہ سے پیوستہ) چین کے بحری بیڑے،چھٹی نسل کے طیارے اورمسلسل مشقیں اس بات کااعلان ہیں کہ وہ امریکاکی ’’جزائرکی زنجیر‘‘توڑنے پر تلا ہوا ہے۔ امریکانے بحرالکاہل میں چین کو محدود رکھنے کیلئے جزائرکاایک حصارکھڑاکیاتھامگرچین اب اس حصار کو توڑکر
(گزشتہ سے پیوستہ) شی،پوتن اورکم کاایک ساتھ نظرآنا عالمی سیاست میں ایک نیامنظرتھا۔تیانمن اسکوائرمیں یہ اجتماع دراصل اس بات کااعلان تھا کہ مشرق اب اپنی راہیں خودطے کرے گا۔ یہ پہلی بارتھاکہ شی،پوتن اورکم اکٹھے نظرآئے۔تیانمن اسکوائرپر جسے’’ گیٹ آف
(گزشتہ سے پیوستہ) شی جن پنگ نے پوتن کودائیں اورکم جانگ ان کوبائیں بٹھاکردنیاکوایک خاموش پیغام دیا۔یہ محض کرسیوں کی ترتیب اور پروٹوکول کامعاملہ نہ تھابلکہ ایک سیاسی استعارہ تھا،یہ ایک سیاسی مثلث کابھرپوراور زبردست اعلان تھا۔سیاست میں بعض اوقات
اے اہلِ دنیا!کیا تم نے تاریخ کے دھارے کوبدلتے نہیں دیکھا؟کیاتم نے وقت کی موجوں کومغرب سے مشرق کی طرف پلٹتے محسوس نہیں کیا؟ صدیوں تک طاقت کاسورج روما کے ایوانوں،لندن کے محلات اورواشنگٹن کے قلعوں سے طلوع ہوتارہا،مگرآج اس
(گزشتہ سے پیوستہ) قطرکے وزیراعظم کایہ اعلان محض غصےکا اظہار نہیں بلکہ ایک عالمی اصول کی تصدیق ہے۔تاریخ یاددلاتی ہے کہ جب1990ء میں کویت پرحملہ ہواتھاتودنیانے اسے ریاستی جارحیت کہا۔آج قطر اسی اصول کےتحت اسرائیل کےخلاف کھڑاہے۔ قطرکےامیرنے اسرائیلی اقدام
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ بارہااس امرکی گواہ رہی ہےکہ یہاں کی زمین بارود اور سازشوں کی جولانگاہ بنی رہی۔مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے کھیل کا میدان رہاہے۔سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے بعداس خطے کی سرزمین پرکبھی تیل کی