ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
(گزشتہ سے پیوستہ) آج کے دورمیں دشمن نے جنگ کاطریقہ بدل دیاہے۔آج دشمن نے اپنی چالیں بدل لی ہیں۔ اب وہ توپ و تفنگ سے زیادہ فتنہ اور جھوٹ کے ساتھ حملہ آورہے،پروپیگنڈے کے تیرچلاتاہے ۔ سوشل میڈیاپر وہ نوجوانوں
(گزشتہ سے پیوستہ) آج کے دورمیں دشمن نے جنگ کاطریقہ بدل دیاہے۔آج دشمن نے اپنی چالیں بدل لی ہیں۔ اب وہ توپ و تفنگ سے زیادہ فتنہ اور جھوٹ کے ساتھ حملہ آورہے،پروپیگنڈے کے تیرچلاتاہے ۔ سوشل میڈیاپر وہ نوجوانوں
(گزشتہ سے پیوستہ) مومنو!ہمیں اپنے اعمال اورقربانیوں میں اللہ کی رضاکومقدم رکھناہے۔پاکستان کی سرزمین پرہم نے اللہ کی مددسے اپنی تقدیرخودلکھی۔ یہاں اسلامی اصولوں کے مطابق معاشرہ قائم کرناہے،اورہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے۔ہمیں اپنے اعمال اورقربانیوں میں اللہ کی
آج کاد ن صرف ایک تاریخ کانشان نہیںبلکہ ایک روحانی اورفکری جشن ہے۔آج کادن محض ایک تاریخ کانشان نہیں،بلکہ ایک روحانی اورفکری جشن ہے۔آج کادن صرف ہمارے ملک کے جغرافیائی وجود کی خوشی کاوہ دن ہے جومسلمانوں کی قربانیوں، استقلال
(گزشتہ سے پیوستہ) سترہ دن کی اس جنگ کے بعددشمن پسپاہوا۔ اس کے دل پروہ زخم لگاجوآج تک رس رہاہے لیکن ساتھ ہی اس نے یہ فیصلہ کرلیاکہ براہِ راست جنگ سے ہٹ کرسازشوں کے نئے دروازے کھولے جائیں گے۔
قوموں کی زندگی میں کچھ دن محض تقویمی تاریخ نہیں ہوتے بلکہ ان کے وجودکی اساس اوران کے شعورکی جڑیں بن جاتے ہیں بلکہ قوم کی روح میں ابدی چراغ کی طرح روشن ہو جاتے ہیں۔پاکستان کا قیام 1947ء میں
(گزشتہ سےپیوستہ) اس کے ساتھ ہی50 فیصد ٹیرف کااعلان ہواگویاایک تازیانہ جودہلی کی معیشت پربرسایاگیا۔البتہ سوال یہ بھی اٹھتاہے کہ اگرٹرمپ واقعی روسی جارحیت کے خاتمے کے خواہاں تھے توالاسکامیں پیوٹن سے ملاقات کے بعدنرم لہجہ کیوں اختیارنہ کیا؟شایداس لیے
بین الاقوامی سیاست کے افق پربعض اوقات ایسے بادل چھاجاتے ہیں جن سے دھوپ بھی چھن جاتی ہے اوربارش بھی برسنے لگتی ہے۔ایک طرف امریکاہے جوپابندیوں کے کوڑے سے اپنے مخالفین کوراہِ راست پرلانے کاخوگرہے،دوسری طرف بھارت ہے جواپنی معاشی
(گزشتہ سےپیوستہ) قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے فرمایا تھا: پاکستان اسی لیے بنایاگیاتھاکہ ہم اپنی قسمت کے خود مالک ہوں،آزادفضاؤں میں سانس لیں اور اسلام کے اصولوں کواپنی زندگی کامنشور بنائیں ۔ حالیہ دنوں میں پاک بھارت معرکے میں جس فتحِ
آج کے دن جب فضائیں پاکستان زندہ بادکے نعروں سے گونج رہی ہیں،جب ہرگلی، ہر کوچہ سبزہلالی پرچم کی چمک سے جگمگا رہاہے،جب بچے معصوم ہنسی کے ساتھ شہداکے خوابوں کوزندہ کررہے ہیں،تومیرے دل کی دھڑکنیں بھی پاکستان کی دھڑکن
میرا کام توصرف تجزیہ کرناہےجبکہ یہ ساری سوالات توان مقتدرحضرات سے پوچھنے چاہئیں اوران کابھی فرض بنتا ہے کہ قوم کواعتمادمیں لیاجائے۔تاہم جہاں تک میرے سیاسی تجزیہ کاتعلق ہے تواس کامختصرجواب تویہ ہے کہ براہِ راست نہیں؛بالواسطہ اورمشترکہ سفارتی‘قانونی راستوں