قائد!ہم شرمندہ ہیں
(گزشتہ سے پیوستہ) ارشاداتِ قرآنی پیش نظررکھئے اورپاکستان کے قیام سے لے کر پاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے تک کے واقعات پرغور کیجئے،انسانی معاشرت کے لئے قدرت کی منصوبہ بندی کی کارفرمائیاں واضح ہوتی چلی جائیں گی۔قیامِ پاکستان کی
(گزشتہ سے پیوستہ) ارشاداتِ قرآنی پیش نظررکھئے اورپاکستان کے قیام سے لے کر پاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے تک کے واقعات پرغور کیجئے،انسانی معاشرت کے لئے قدرت کی منصوبہ بندی کی کارفرمائیاں واضح ہوتی چلی جائیں گی۔قیامِ پاکستان کی
(گزشتہ سے پیوستہ) افشاں کامحض قصوریہ ہے کہ کاشانہ میں متاثرہ بچیوں کی جانب سے جنسی درندگیوں کے ان ظالمانہ سلوک پر بحیثیت ایک ماں اورعورت اس کی روح تک لرزگئی۔جس کے بعداس نے اپنے ضمیرکی آوازپرلبیک کہتے ہوئے بڑی
گاڑی میرے گھرکے سامنے رکی،پہلے باوردی شوفراترا،پچھلے دروازے کی طرف بھاگا اور سرعت سے ہینڈل کھینچ دیا۔ اندرسے آسامی نیلے سوٹ میں ملبوس ایک خوبصورت نوجوان نکلا، اس کے ہاتھوں میں گلدستہ تھا۔میں یہ سب کچھ اپنے گھر کے فرنٹ
(گزشتہ سے پیوستہ) کیا مسلم عوام نے جس وطن کے لئے اتنی قربانیاں دیں،وہ اس لئے کہ ان کے ملک پر امریکا اورمغرب کاتسلط قائم ہوجائے،ان کو امریکی انتظامیہ کاایک ادنی سااہلکاریہ بتائے کہ فلاں کووزیراعظم بنائو،فلاں کووزیرداخلہ،فلاں کوملکی سلامتی
14اگست1974ء کوجب پا کستان دنیاکی سب سے زیا دہ مسلم آبادی والی ریاست کی حیثیت سے نقشے پرابھراتھاتوبابائے قوم نے لارڈمائونٹ بیٹن کو پہلا گورنرجنرل بنانے سے اس لئے انکار نہیں کیاتھاکہ وہ خوداس عہدے کے خواہاں تھے، بلکہ اس
(گزشتہ سےپیوستہ) اب تم خودہی بتاکیاوہ لوگ عظیم تھے جنہوں نے ایک یتیم کی پرورش کے لئے اپنی جان ومال داپرلگادیئے یاوہ لوگ عظیم ہیں جومیری جائیداد،میری دولت کو لوٹتے رہے اوراپنے ناموں اوراپنی اولادوں کے نام منتقل کرتے رہے

کل میرے پاکستان کی78ویں سالگرہ ہے،مجھے اس کی دوستی پرفخرہے۔جب میں اس کے ہمراہ ہوتاہوں تومجھے ایک گونہ اطمینان ہوتا ہے۔ پاکستان کی ایک بد قسمتی یہ بھی رہی ہے کہ اس کوقائد اوراس کے رفقا کے بعدجوساتھی ملے، اس

(گزشتہ سے پیوستہ) 1945ء میں قائد اعظم ؒ کو نظر آرہا تھا کہ اب برطانوی حکومت کو ہندوستان میں الیکشن کرانے ہی پڑیں گے چنانچہ انہوں نے اپنی مہم کا آغاز کرتے ہوئے 16اگست1945 ء کو بمبئی سے یک بیان
قوم ہر سال 14اگست کوپاکستان کایومِ آزادی بڑے جوش و جذبے اور عقیدت و احترام سے مناتی ہے۔میڈیا میں اس دن کے حوالے سے بہت سیر حاصل معلومات پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں اور اسی حوالے سے اسلامیانِ برصغیر
(گزشتہ سے پیوستہ) اکبر اور جہانگیر کے دور میں جب حکمرانوں نے دربارمیں غیر اسلامی رسم و رواج کو جگہ دی اور ملک میں بعض غیر اسلامی احکام نافذ کئے تو شیخ احمد سرہندی المعروف بہ مجدد الف ثانی کے