اسلام آباد مذاکرات کشمیری نہال
اسلام آباد امن مذاکرات نے بھارت میں مودی حکومت کا جنازہ نکال دیا ہے اور کشمیری نہال ہورہے ہیں، کئی کشمیری شہری بھارتی تسلط کو نظر انداز کرتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر رہے ہیں ، جن
اسلام آباد امن مذاکرات نے بھارت میں مودی حکومت کا جنازہ نکال دیا ہے اور کشمیری نہال ہورہے ہیں، کئی کشمیری شہری بھارتی تسلط کو نظر انداز کرتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر رہے ہیں ، جن
(گزشتہ سےپیوستہ) ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی اس فالس فلیگ منصوبہ بندی کا مقصد صرف پاکستان پر الزام عائد کرنا نہیں تھا بلکہ عالمی اداروں، میڈیا اور دیگر ممالک کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان خطے میں
کوٹیلہ چانکیہ کی سازشی پالیسیوں کا اسیر مودی کا بھارت پورے خطے بلکہ عالمی امن کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ، اسرائیئل کے بعد یہ واحد ملک ہے ، جو دہشت گردی کو ریاستی پالییس کے طور پر
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں آئمہ کرام اور مساجد کی پولیس پروفائلنگ کی رپورٹنگ پر صحافیوں کی تھانو ں میں طلبی کی مقامی اور بین الااقوامی صحافتی تنظیموں کی طرف سے بھر پور مذمت کی جا
بھارت طویل عرصے سے اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ایک سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ سرکاری بیانیہ یہی رہا کہ یہ ملک مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگوں کا مشترکہ
عالمی سیاست کے ہنگامہ خیز منظر میں آج بھارت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی قیادت کی منافقت، مسلم دشمنی اور ذاتی مفادات کی ترجیحات نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر خطرے کے بادل گھیر
عالمی سیاست کے ہنگامہ خیز منظرنامے میں کبھی کبھی ایسے لمحات آتے ہیں جب کسی ریاست کی اصل فطرت اس کے نعروں یا سفارتی بیانات سے نہیں بلکہ اس کے عملی کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔ آج کا بھارت اسی
امریکی سرپرستی اور عملی معاونت کے ساتھ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی گئی شدید جارحیت نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست کو بھی ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ محض دو ریاستوں کے درمیان
(گزشتہ سے پیوستہ) سیاسی میدان میں بھی کشمیری جدوجہد کے خلاف کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ جبری حکمرانی کو جمہوری چادر اوڑھانے کے لیے مقامی سیاسی میدان میں کٹھ پتلیاں پیدا کی گئیں، جعلی انتخابات کے ذریعے انہیں اقتدار کی
بھارتی حکومت کی نئی قومی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی “پرہار” کو ایک طرف تو حفاظتی اور انتظامی قدم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر جب اسے مقبوضہ جموں و کشمیر کی 78 سالہ تاریخ کے