خطرناک ’’مولانا ‘‘
جمعرات کی شام مزار قائد کے سائے میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا اک سمندر تھا، انسانوں کے اس سمندر میں سندھی ،پشتو، پنجابی، ہندکو، بروہی، اردو بولنے والے سب ہی شامل تھے، اکثریت کے چہروں پہ داڑھیاں جبکہ سروں
جمعرات کی شام مزار قائد کے سائے میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا اک سمندر تھا، انسانوں کے اس سمندر میں سندھی ،پشتو، پنجابی، ہندکو، بروہی، اردو بولنے والے سب ہی شامل تھے، اکثریت کے چہروں پہ داڑھیاں جبکہ سروں
اتوار کی شام گلشن اقبال کراچی میں نوجوانوں کے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اس خاکسار نے عرض کیا کہ ختم نبوتﷺ اور ناموس رسالتﷺ کا تحفظ صحابہ کرام کا مشن ہے ’’عالمی اوباشوں کے ایجنڈے کی تکمیل کے
بزرگ اور جید عالم دین مولانا اللہ وسایا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے روح رواں ہیں اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر بالخصوص مسلم ممالک کے مذہبی اور علمی حلقوں میں انہیں ایک خاص نمایاں مقام حاصل
دربار نبوتﷺ کی ضیا پاش کرنوں سے مستفید ہونے والوں میں مرد ‘عورت اور بچے سب ہی شامل تھے لیکن اس واضح حقیقت سے انکار کرنے کی جرات کون کر سکتا ہے کہ سیرت نبویﷺ کے زیر اثر جو پاکیزہ
ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی ، پیر کے روز اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے،پاکستان میں ان کا قیام تین روز رہا۔اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان اہم معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں پر دستخط بھی ہوئے، خاتون
غزہ کی پٹی کے مسلمانوں کو اس بات کا احساس نہیں تھا کہ صیہونی جارحیت کے خلاف ان کی استقامت اور ان کے پختہ ایمان کے نتیجے میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے درجنوں افراد اسلام قبول کر لیں
سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث اکائونٹس، پیجز کو بلاک کرنے کے لئے تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان نے پی ٹی اے کو باضابطہ طور پر
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سلیم اعجاز دامت برکاتہم العالیہ جامعہ انوار العلوم دھیر کوٹ کے مہتمم اور آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کی انتہائی متبحر علمی شخصیت ہیں،خطہ کشمیر کے ممتاز اور جئید عالم دین شیخ الحدیث مولانا
72 وفاقی اداروں، اور ایپک فورم سے منسلک 28 اداروں کے تقریباً چار لاکھ سے زیادہ متاثرہ‘برطرف ملازمین کی تنظیم(ایپک فورم) کے چیئرمین محمد جاوید اعوان کے مسلسل رابطوں کی وجہ سے اس خاکسار کو بھی مظلوم مزدور ملازمین کی
ایک سال میں 94ہزار کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، پچھلے ایک سال میں یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ ساٹھ ہزار ہو گئی۔ دسمبر 2017ء میں 98 لاکھ لوگ جی ایس ٹی ادا کرتے تھے، آج یہ تعداد 1کروڑ 40لاکھ سے زیادہ