Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

حضرت نوحؑ کی طویل حیات سائنس اور قرآن کے زاویئے میں

ٹیکنالوجی کے نشے میں ڈوبے ہوئے اس دور میں ایک نئی امید نمایاں ہے، مصنوعی ذہانت شائد بڑھاپے کا مسئلہ حل کر دے۔ لیبارٹریوں میں ایپی جینیٹک ری پروگرامنگ، لونجیویٹی اسکیپ ویلاسٹی اور 2030 ء تک عمر کی واپسی جیسے دعوے سنائی دیتے ہیں۔ سرمایہ کار حیاتیاتی سائنس میں ایسے سرمایہ لگا رہے ہیں گویا موت محض ایک تکنیکی خرابی

رمضان اور اصلاحِ کردار

جوں جوں ماہِ مبارک رمضان قریب آتا ہے، انسان خود بخود غور و فکر کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ مجھے اشفاق احمد صاحب کی ڈائری میں درج ایک دلکش مگر گہرا واقعہ یاد آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اُن کے دفتر میں ایک جاپانی ساتھی، میوا نامی ایک نوجوان خاتون، نے رمضان کے آغاز پر اُن سے سوال

بورڈ آف پیس، انصاف یا غلبہ؟

(گزشتہ سے پیوستہ) تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جوادارے مدت اوراحتساب کے بغیرقائم ہوتے ہیں،وہ جلدیابدیر طاقت کے قلعے بن جاتے ہیں۔بورڈ آف پیس کی غیرمعینہ حیثیت اسے ایک ایسے ادارے میں بدل دیتی ہے جوامن کی بجائے اثرورسوخ کودوام دے سکتاہے۔ایک سابق سفارتکارکے بقول،چونکہ بورڈ کے چیئرمین خود صد رٹرمپ ہیں،اس لیے ان کے لین دین پرمبنی

امن مگر ہوشیاری کے ساتھ

جب پاکستان نے چند اسلامی ممالک کے ساتھ ڈیووس میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لئے قائم کردہ امن بورڈ میں شمولیت کے معاہدے پر، امریکی صدر کی موجودگی میں، دستخط کئے تو مختلف حلقوں سے تنقید کی آوازیں بلند ہوئیں۔ بعض نے سوال اٹھایا کہ جب اقوام متحدہ پہلے ہی امن اور تعمیر نو کے لئے موجود ہے تو

بدی بے حیائی ظلم وزیادتی

معاشرہ انسانوں کے مجموعے کا نام ضرور ہے، لیکن اس کی اصل روح اس کے اخلاق، اقدار اور کردار میں پنہاں ہوتی ہے۔جب کسی قوم کے اندر حیاء، عدل، دیانت اور باہمی احترام جیسی صفات زندہ ہوں تو وہ قوم عزت و وقار کی بلندیوں کو چھوتی ہے اور جب یہی اوصاف ماند پڑ جائیں تو اخلاقی زوال اس کے

قومی وحدت پر کھلا وار

چند روز قبل لاہور میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں زیادہ تر ایک مخصوص سوچ کے افراد مدعو تھے۔ ان کا تعلق کم و بیش ہر شعبہ زندگی سے تھا۔ اختر جان مینگل، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور رکنِ قومی اسمبلی بھی اس میں شریک تھے۔ اسٹیج پر براجمان تمام مہمانوں نے ملکی حالات اور تاریخ پر اظہارِ خیال

کالم پروفائل