Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

اندھے کیمروں کی ریڈ کارپٹ پالیسی

ہماری سڑکیں آج کل ایک عجیب شور سے گونج رہی ہیں۔ کہیں کیمرے ٹمٹما رہے ہیں کہیں گاڑیاں اچانک رک کر ڈرائیور کا دل حلق تک لے آتی ہیں اور کہیں ڈیجیٹل چالان کا نوٹیفکیشن فون پر ایسے آتا ہے جیسے کسی نے جیب پر ڈاکہ ڈال دیا ہو۔ اسلام آباد، لاہور، ملتان، فیصل آباد اور کراچی۔ ہر طرف ایک

5 بدترین گستاخ! سزا کالعدم اور مولانا فضل الرحمن

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث پانچ ثابت شدہ گستاخوں کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیا ، تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان کے ایک وفد نے اس خاکسار کی ہمراہی میں جمعرات کی رات جمعیت علمائے اسلام کے

گورنر راج: ایک سیاسی و نظریاتی جائزہ

ایک بار پھر پاکستان میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔اس بار صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر کے ممکنہ نام ڈرائنگ روموں اور نیوز روموں میں زیرِ بحث ہیں، اور وہی پرانا سوال دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا ہیکہ آئین کب کسی صوبے کو براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور

خیبرپختونخوا ،ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا

خیبرپختونخوا حکومت اپنی بیڈ گورننس کی ہانڈی کی کالک وفاق کے چہرے پر مل کر نام نہاد مظلومیت کا جو لبادہ اوڑھنے کی کوشش کر رہی ہے اس پر بے اختیار ہمیں انگریزی زبان کا محاورہ Throw someone under the bus یا آجاتا ہے جس کا مطلب ہے اپنے آپ کو بچانے کیلئے کسی دوسرے کو قربانی کا بکرا بنا

ڈیل ، ڈھیل اور ہیجانی سیاست

سیاسی منظر نامے میں انتشار کا عنصر کم نہیں ہونے پا رہا۔ تحریک انصاف اگرچہ صوبہ کے پی میں برسر اقتدار ہے لیکن تمام ادائیں حزب اختلاف والی ہیں۔جیل میں سابق وزیراعظم کی موت کی افواہ پھیلا کر جو ہیجان پیدا کیا گیا وہ اب کچھ کم ہوا ہے۔ جماعت کے شعلہ بیاں ترجمان اور بیرون ملک پناہ گزین کچھ

تاریخ کی نظر:ڈریگن اورعقاب کامکالمہ

(گزشتہ سے پیوستہ) یہ اعتراف تھاکہ مغرب کی صنعت کا دل اب مشرق کی مٹی میں دھڑکتاہے۔یہ چارالفاظ،شاید پچھلی دوصدیوں کی مغربی سامراجی گفتگو کاسب سے مختصرجواب تھے۔جہاں مغرب’’حکم دیتا‘‘ تھا،وہاں اب مشرق ’’سوچنے‘‘ لگا۔یہی لمحہ تھاجب دنیانے محسوس کیاکہ فیصلہ اب نیویارک یالندن میں نہیں،بیجنگ میں ہوتاہے۔ژی نے سکون سے کہا، ’’ہم اس پرغورکریں گے‘‘۔یہ وہ لمحہ تھاجب دنیانے

کالم پروفائل