Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

اسلام آباد سے ڈھاکہ تک ’’مولانا‘‘کی للکار

یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمن نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے تاریخی سہروردی گراونڈ میں جن لاکھوں انسانوں سے خطاب کیا وہ نہ تو ’’اوورسیز پاکستانی‘‘تھے، نہ وہ مولانا کے ووٹر تھے اور نہ ہی انہیں مولانا سے کسی قسم کا کوئی لالچ تھا،تاریخی سہروردی گرائونڈ میں عالمی ختم نبوت کانفرنس میں جو لاکھوں انسان جمع تھے وہ

قومی اسمبلی سے مولانا کا فکر انگیز خطاب

مولانا فضل الرحمن کا دور حاضر کے ان پاکستانی پارلیمنٹیرین میں شمار ہوتا ہے جن کی دانش و بیش کے چرچے چہار دانگ مشہور و معروف ہیں۔فیس بک پر بعض متعصب لوگ ان کے بارے جتنے بھی ناروا الفاظ اور غیر مہذب جذبات و احساسات کا اظہار کرتے رہیں ان سے مولانا کے سیاسی قد آورعلمی مقام و مرتبے میں

جنرل ضیاء الحق کے غیر آئینی اقدامات

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جنرل محمد ضیاء الحق کا دور ایک ایسا باب ہے جو آج بھی تنازعہ، غم، اور عبرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 5 جولائی 1977 ء سے 17 اگست 1988 ء تک جاری رہنے والا یہ دور گیارہ سالوں پر محیط تھا ایک ایسا عرصہ جس میں پاکستان نے جمہوریت، آئین، اور شہری آزادیوں پر

اقبالؒ اور اسلام کی نشاۃِ ثانیہ

یہ لمحہ فکری مسرت کا ہے کہ آج بلوچستان کی علمی فضا میں جہاں پہاڑوں کی سنگینی دلوں کی غیرت سے ہم آہنگ ہے ہم اس مفکرِ ملت کو یاد کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جس نے غلام ذہنوں میں آزادی کے خواب جگائے، اور جس کی صدائے دروں آج بھی ملتِ اسلامیہ کے قافلے کو منزل کی طرف

دعوت و تبلیغ کے مقاصد اور دائرے

(گزشتہ سے پیوستہ) میں علماء کرام سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھ رہی ہے اور ہم سے کیا توقعات وابستہ کیا ہوئے ہے، مگر ہم کس دنیا اور ماحول میں مگن ہیں کہ ہمیں سرے سے ان مسائل اور ان کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کا کوئی احساس ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی

صدارتی استثنیٰ: اختیار اور جواب دہی کے درمیان نازک توازن

مدتوں سے صدارتی استثنیٰ کا تصور دنیا بھر کے آئینی مباحث میں اہم مقام رکھتا آیا ہے۔ اگرچہ مختلف ممالک میں اس کی صورتیں مختلف ہیں، مگر اس کی بنیادی منطق ایک ہی رہی ہے‘ سربراہِ ریاست کو روزمرہ سیاسی مقدمات یا قانونی خوف سے آزاد ہو کر اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں، لیکن کوئی بھی عہدہ دار ہمیشہ کے

کالم پروفائل