Search
Close this search box.
پیر ,06 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

’’پانی کی پکار: جنگ کا خدشہ‘‘

(گزشتہ سے پیوستہ) بی آرآئی میں150سے زائدممالک اور ادارے کسی نہ کسی شکل میں وابستہ ہیں۔بی آرآئی منصوبے کے تحت بندرگاہیں، ریلوے، سڑکیں، توانائی (بجلی، گیس، تیل)،ٹیلی کمیونیکشن، لاجسٹک کوریڈورز، فائبر آپٹک جی،اے آئی5،اورڈیجیٹل سلک روڈ میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔گویاعالمی معاشی نظام پرمکمل گرفت نظرآ رہی ہے۔اس کے ساتھ ہی اگرچین کی علاقائی توسیع کی طرف نظر دوڑائیں

دھوکہ دہی کی بازگشت

جیو پولیٹکس کے سائے میں تاریخ اکثر خود کو دہراتی ہے… نہ کہ ایک مذاق کے طور پر، بلکہ ایک سرد اور لرزہ خیز تکرار کے طور پر، جس میں کردار نئے ہوتے ہیں مگر مقاصد وہی پرانے۔ دو واقعات… جن کے درمیان تقریباً چھ دہائیوں کا فاصلہ ہے… حیرت انگیز مماثلت کے ساتھ ایک دوسرے کی بازگشت محسوس ہوتے

سربلند عالم دین ، امیرالمجاہدین کی عظیم قربانیاں !

منافقین ،ملحدین،لنڈے کے لبرلز ،گمراہ مولوی زادوں، ہم جنس پرستوں ، غامدیوں کا گروہ اور قادیانیت زدہ وہ جہاد دشمن خرکار کہ جو گز گز بھر لمبی زبانیں لٹکائے مولویوں کو طعنے دیا کرتے تھے کہ مولوی فتوے دیتے ہیں خود جہاد کیوں نہیں کرتے ؟ اور یہ بھی کہ یہ لوگوں کے بچے مرواتے ہیں اور ان کے اپنے

جنگ کے دہانے سے لوٹتی قوم کا سجدۂ تشکر

16 مئی 2025 ء کا سورج کچھ اور ہی امیدوں، دُعاؤں اور جذبات کی چمک لئے طلوع ہوا۔ یہ وہ دن تھا جس کا انتظار ایک پوری قوم نے سسکیوں، دعاؤں اور بے شمار قربانیوں کے ساتھ کیا۔ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے، جب 10 مئی کو اچانک پاک بھارت سرحدی کشیدگی نے ایسا رخ اختیار کیا کہ

ہمارا تاج اچھالنے کا خواب

وہ ملک جس کی معیشت کی کمر اتنی نہ مضبوط ہو کہ اپنی اسی فیصد آبادی کی بھوک کا بوجھ نہ سہار سکے اس ملک کی اشرافیہ اور مقتدرہ کروڑوں روپے کا زر شرلیوں اور دیگر آگ اگلتے پٹاخوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں اور ایک مسکراہٹ کے نذرانے کے ساتھ ایسی شہ خرچی کرنے کو خراج تحسین پیش

تہذیبی کردار سازی کی ضرورت

(گزشتہ سے پیوستہ) اس وقت دنیا بھر میں تین سب سے بڑی تہذیبیں اپنے عروج پر ہیں جن میں مغربی تہذیب، اسلامی تہذیب اور لادینی تہذیب سرفہرست ہیں۔ تہذیبوں کے بارے کہا جاتا ہے کہ ’’دنیا میں صرف حکمران قوموں کی تہذیبیں بچتی ہیں۔‘‘جبکہ دنیا پر حکمرانی صرف علم اور کردار کی طاقت سے کی جاتی ہے۔ اس کی مثال

کالم پروفائل