Search
Close this search box.
پیر ,06 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

پاک بھارت کشیدگی میں میڈیا اور سوشل ایکٹویزم کا کردار

سرحد کے دونوں جانب قوم پرست عناصر موجود ہیں، اور ان کے پاس بہت بڑے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ کی صورت میں موجود ہیں جہاں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح جھوٹی اور سچی خبروں کو بڑھا چڑھا کر یا مسخ کرکے اس انداز میں پیش کیا جاتا رہا ہے کہ دوسری طرف کے لیے نفرت، دشمنی اور عداوت پیدا

الفاظ کی جنگ ، سچائی کا امتحان

جس قوم کے پاس دلیل نہ ہو، ثبوت نہ ہو اور سچائی کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہو، وہ جھوٹ، پروپیگنڈے اور نفسیاتی چالوں کا سہارا لیتی ہے۔ یہی کچھ بھارت بالخصوص بھارتی میڈیا، سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامے کے بعد کر رہا ہے۔ جب دشمن کو میدان جنگ میں شکست ہوئی، جب اس کے جھوٹ بے نقاب ہوئے، جب

لا غالب الا اللہ

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی کسی مغرور طاقت نے اللہ کے فضل اور اہلِ ایمان کی غیرت کو للکارا، زمین و آسمان کے قانون نے اسے ذلت کے گڑھے میں پھینک دیا۔ کل یمن کے ابرہہ جو ہاتھیوں کی فوج لے کر کعبۃ اللہ کو گرانے کے گھمنڈ سے آیا تو اللہ کی ابابیلوں نے کنکروں سے

پیشاوری کی عزیمت سے مُودی کی ہزیمت تک!

عبدالرحمٰن پیشاوری تو عقل وخرد سے ماوریٰ دیارِ عشق وجنوں کا باشندہ تھا۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں مال ودولتِ دُنیا اور رشتہ وپیوند کے بُتانِ وہم وگماں کو توڑ کر ملّت میں گُم ہوگیا۔ پشاور سے علی گڑھ اور علی گڑھ سے قسطنطنیہ تک، عشق کی ایک ہی جست نے سارا قصّہ تمام کردیا۔ بھرپور جوانی کے تیرہ برس

جوہری حدود اور امن کی نازک نوعیت

(گزشتہ سے پیوستہ) امریکا کی یونیورسٹی ایٹ البانی کے پروفیسر کرسٹوفر کلیری کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے حملوں کی وسعت اور پاکستان میں کئی ٹھکانوں پر واضح جانی و مالی نقصان کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے اس کا جواب دیدیا ہے۔انھوں نے عالمی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: اگر پاکستان کوئی ردعمل نہ دیتا تو یہ

کذابوں کا ٹولہ اور پاکستان کی تاریخی جیت

نجانے کذب بیانی کے علمبردار میجر عادل، عمران ریاض،شہباز گل،میجر سوریا،کرنل بخشی ،حسن الیاس، غامدی وغیرہ وغیرہ ابھی تک زندہ ہیں،یا پھر چلو بھر پانی میں ڈوب مرے؟اگر ڈوب مرے تو رب ان کی آتماوں کو کذب بیانیوں کی پوری پوری سزا دے ،لیکن اگر یہ بھی اپنے گرو گھنٹال نریندر مودی کی طرح ڈھیٹ بن کر ابھی تک زندہ

کالم پروفائل