Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

بھیڑ بکریوں کی سلطنت

میں نے بھیڑ بکریوں سے سوال کیا ’’تمہاری راج دہانی کیسی ہے ؟‘‘ آوازوں کا ایک طوفان امڈ آیا،کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کون کیا کہہ رہا ہے ،اس بے ہنگم شور میں کوئی اندازہ بھی لگایا نہیں جاسکتا تھا کہ کان پڑنے والی کس بات کے کیا معنی لئے جائیں ۔ بے معنی لفظوں کی ایک جنگ

خالی ہاتھ

سہراب سائیکل کے بانی اور مالک شیخ اکرم صاحب ارب پتی پاکستانی تھے جو بے بسی اور انتہائی کسمپرسی کی حالت میں چند روز قبل دنیا سے رخصت ہوئے۔ کہا جاتا ہے ان کی میت کئی دنوں تک ہسپتال میں بے گوروکفن پڑی رہی مگر اسے وصول کرنے کے لئے وارثین نہیں پہنچے۔ اپنی موت سے چار دن پہلے تک

پانی ہی زندگی ہے

گزشتہ ہفتے2مارچ کوکارپوریٹ فارمنگ پر مضمون شائع ہونے کے بعدکئی محترم تجربہ کار دوستوں نے رابطہ کرکے نہ صرف اس سلسلے کی تائیدکی بلکہ اس موضوع پرملک بھرکے ماہرین کوبھی اس اہم موضوع پرمتحرک ہونے کی دعوت دینے کی فرمائش کی جس کے بعدضروری سمجھ رہاہوں کہ قوم کونہ صرف اس اہم ملکی مسئلہ پرمزیدتفصیلات سے آگاہ کیاجائے بلکہ اس

کیا مذہب اور مذہبی شخصیات کی توہین جرم نہیں ہے؟

تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ کے تحت مذہب اور مذہبی شخصیات کی توہین قانونی طور پر جرم ہے جس میں سزائے موت تک کی مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں اور توہین رسالت ؐ پر موت کی سزا کا قانون بھی اسی کا حصہ ہے، لیکن اسے ایک عرصہ سے بین الاقوامی حلقوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا

ناموس رسالتؐ! مولانا حنیف جالندھری کاخط اکابرین کے نام

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلی شیخ الحدیث مولانا محمد حنیف جالندھری نے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ، قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن ، حضرت مولانا مفتی منیب الرحمن ، پروفیسر ساجد میر اور حضرت مولانا عبد المالک کے نام ایک کھلا خط تحریر کیاہے،چونکہ مولانا حنیف جالندھری کے اس خط میں پاکستان

غزہ کوئی ’’چیز‘‘ نہیں ہے، جناب صدر!

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نہ اسرائیل اور نہ ہی امریکہ ہمیں، غزہ کے لوگوں کو امن کے ساتھ چھوڑنے پر تیار ہیں۔ یہاں تک کہ اسرائیلی استعماری قبضے کے ذریعے ہونے والی نسل کشی کی جنگ میں ایک نازک جنگ بندی کے اعلان کے بعد، جسے امریکی حمایت اور مصری اور قطری ضمانتوں کے ساتھ عمل میں لایا گیا،امریکی

کالم پروفائل