Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

ہمارے ملی و قومی مسائل اور اسلام آباد کے علماء کرام

(گزشتہ سےپیوستہ) ہمارے ہاں اس وقت ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ کیا ہے؟ سادہ سی بات یہ ہے کہ غزہ کو اسرائیلیوں نے فتح کرنے کی کوشش کی ہے، دو سال لڑائی لڑی ہے، غزہ والوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، اللہ پاک شہداء کے درجات بلند فرمائے، قربانیاں بارآور کرے۔ کیا اسرائیل حماس کو

جنگ کی آڑ اور مہنگائی کا وار

پاکستانی وہ قوم ہے جو ہر مشکل وقت میں اپنے ملک کے ساتھ کھڑی رہی۔ مہنگائی ہو یا بے روزگاری بجلی کے بل ہوں یا ٹیکسوں کا بوجھ پاکستانی عوام نے ہمیشہ برداشت کا مظاہرہ کیا۔ مگر ہر صبر کی ایک حد ہوتی ہے۔ جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو برداشت چیخ میں بدل جاتی ہے۔ آج پٹرول کی

جنگ نئے مرحلے میں

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کا انتہائی بدحواسی کی حالت میں نظر آنا سمجھ میں آرہا ہے۔اپنے ملک کی جانب سے امریکہ کو تحفظ کے نام پر کھربوں ڈالر ادا کرنے کے بعد اب جا کر اسے یہ احساس ہوا ہے کہ یہ فوجی اڈے دراصل اس کے برعکس کام کر رہے تھے۔ حقیقت میں ان کا بنیادی مقصد

فریب، طاقت اور خلیج کا بدلتا منظرنامہ

اردو میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ چور چوری چھوڑ سکتا ہے مگر ہیر پھیر اور فریب کاری نہیں چھوڑتا۔ یہ پرانی کہاوت آج کی عالمی سیاست کے منظرنامے میں غیر معمولی طور پر صادق آتی محسوس ہوتی ہے۔ خلیج کے خطے میں اس وقت ایک خطرناک کشمکش جنم لے چکی ہے جس میں بظاہر امریکہ اور اسرائیل ایران کے

ہندوستانی سیٹلائٹ پروگرام کی ناکامیاں

مودی سرکار پر یہ خبر بجلی بن کر گری ہے کہ دھوم دھام سے خلا میں بھیجے گئے مصنوعی سیارے کا تجربہ ناکام ہوگیا۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ خلائی مشن ایک بار پھر ناکام ہوگیا ہے۔ 2021ء کے بعد یہ پانچویں مسلسل ناکامی ہے ۔ بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو – ISRO) کا 2026ء کا

طاقت،تدبر اور تدبیر

تاریخ کے بعض موڑایسے ہوتے ہیں جب زمانہ اپنے قدم روک کرسانس لیتاہےاوراقوام کی تقدیرچندفیصلوں کے پلڑےمیں رکھ دی جاتی ہے۔آج مشرقِ وسطی ایک ایسے ہی دہانے پر کھڑاہےجہاں طاقت کی زبان،نظریے کی آگ،معیشت کی نبض اورسفارت کی سانس ایک دوسرےمیں الجھ کرایک پیچیدہ گرہ بناچکی ہیں۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتباہی بیانات، ٹرمپ کے جارحانہ عزائم،پینٹاگون کی عسکری

کالم پروفائل