دہلی، ڈھاکہ اور اسلام آباد
تاریخ کے پنوں پر بعض اوقات ایسے جملے ثبت ہو جاتے ہیں جو نسلوں کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ نصف صدی سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا 1971 ء کے زخم پاکستان کے سینے پر آج بھی تازہ
تاریخ کے پنوں پر بعض اوقات ایسے جملے ثبت ہو جاتے ہیں جو نسلوں کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ نصف صدی سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا 1971 ء کے زخم پاکستان کے سینے پر آج بھی تازہ
یہ زمین اللہ کی امانت ہے۔ قومیں جب اپنی امانتوں کو بھلا دیتی ہیں تو قدرت بھی اپنی مہربانیوں کے دروازے بند کر دیتی ہے۔ پاکستان 1947ء میں بنا تو ایک ایسا ملک وجود میں آیا جسے ہر اعتبار سے
بارش جو کھیتوں کے لئے رحمت اور پیاسی زمین کے لیے زندگی کا پیغام ہوتی ہے اس بار خیبرپختونخوا گلگت بلتستان اور کشمیر کے باسیوں کے لیے قہر بن گئی۔ پہاڑوں سے اترنے والے سیلابی ریلے بستیاں بہا لے گئے،
یہ وطن بار بار امتحانوں سے گزرتا ہے۔ کبھی زلزلے کی صورت میں زمین لرزتی ہے، کبھی سیلاب کی شکل میں دریا بپھرتے ہیں، کبھی طوفانی بارشیں بستیاں بہا لے جاتی ہیں اور کبھی پہاڑی تودے انسانوں کو زندہ دفن
یہ دنیا ایک شطرنج کی بساط ہے جہاں ہر چال سوچ سمجھ کر کھیلی جاتی ہے اور غلط قدم اٹھانے والے کو تاریخ معاف نہیں کرتی۔ پاکستان کے گرد بھی یہ بساط ہمیشہ بچھائی گئی۔کبھی مشرق میں ایک ایسا ہمسایہ
یہ محض ایک دن کی روشنی نہیں یہ روحوں کے اندر اترتی ہوئی ایک تازگی ہے۔ جیسے فضائیں بھی اپنے لباس بدل کر آ گئی ہوں جیسے ہوائیں بھی کوئی پیغام لیے چلی آ رہی ہوں۔ فضا میں خوشبو ہے،
ملکوں کے زوال کے کئی اشارے ہوتے ہیں۔ کہیں فوجیں شکست کھاتی ہیں کہیں معیشت بیٹھ جاتی ہے اور کہیں عوام بھوک سے خودکشیاں کرتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا اور بھیانک اشارہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کے حکمران
جب کوئی وزیرِ دفاع اچانک ایک صبح اٹھ کر یہ کہے کہ آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ہے اور باقی شہریت کی تیاری میں ہے تو یہ بیان نہیں دھماکہ ہوتا ہے۔ مگر ہمارے سماج میں
رفیقِ محفل نے رسوا کر دیا۔ یعنی جسے قوم نے خدمت کا مینڈیٹ دیا وہی تخت پر بیٹھ کر تماشہ بن گیا۔جب بندہ چھوٹا ہو اور کرسی بڑی تو ایسی ہی توازن بگڑتی دنیا سامنے آتی ہے جہاں ڈالا کلچر
یوں تو ہر سرکاری دورہ محض تصویریں نہیں ہوتا۔ کچھ دورے تاریخ کے ماتھے پر نقش ہو جاتے ہیں۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا حالیہ دورہ پاکستان بھی انہی میں سے ایک ہے۔ بظاہر رسمی الفاظ، مشترکہ بیانات، معاہدوں