خواب سے فتح تک
یہ محض ایک دن کی روشنی نہیں یہ روحوں کے اندر اترتی ہوئی ایک تازگی ہے۔ جیسے فضائیں بھی اپنے لباس بدل کر آ گئی ہوں جیسے ہوائیں بھی کوئی پیغام لیے چلی آ رہی ہوں۔ فضا میں خوشبو ہے،
یہ محض ایک دن کی روشنی نہیں یہ روحوں کے اندر اترتی ہوئی ایک تازگی ہے۔ جیسے فضائیں بھی اپنے لباس بدل کر آ گئی ہوں جیسے ہوائیں بھی کوئی پیغام لیے چلی آ رہی ہوں۔ فضا میں خوشبو ہے،
ملکوں کے زوال کے کئی اشارے ہوتے ہیں۔ کہیں فوجیں شکست کھاتی ہیں کہیں معیشت بیٹھ جاتی ہے اور کہیں عوام بھوک سے خودکشیاں کرتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا اور بھیانک اشارہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کے حکمران
جب کوئی وزیرِ دفاع اچانک ایک صبح اٹھ کر یہ کہے کہ آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ہے اور باقی شہریت کی تیاری میں ہے تو یہ بیان نہیں دھماکہ ہوتا ہے۔ مگر ہمارے سماج میں
رفیقِ محفل نے رسوا کر دیا۔ یعنی جسے قوم نے خدمت کا مینڈیٹ دیا وہی تخت پر بیٹھ کر تماشہ بن گیا۔جب بندہ چھوٹا ہو اور کرسی بڑی تو ایسی ہی توازن بگڑتی دنیا سامنے آتی ہے جہاں ڈالا کلچر
یوں تو ہر سرکاری دورہ محض تصویریں نہیں ہوتا۔ کچھ دورے تاریخ کے ماتھے پر نقش ہو جاتے ہیں۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا حالیہ دورہ پاکستان بھی انہی میں سے ایک ہے۔ بظاہر رسمی الفاظ، مشترکہ بیانات، معاہدوں
یاایبسولیوٹلی ناٹ سے برائے مہربانی امریکہ تکیہ دنیا عبرت کا گھر ہے۔ یہاں ہر نعرہ ہر دعوی ہر للکار وقت کی چھلنی سے گزرتا ہے۔ کوئی سچ ثابت ہوتا ہے تو کوئی رسوائی کی علامت بن جاتا ہے۔ اور یہ
کہنے کو وہی تھا جسے برسوں سے اسٹرٹیجک پارٹنر کہا جاتا رہا۔ جس کے ساتھ جلسوں میں ہاتھ تھام کر نعرے لگائے گئے جس کے لیے دلی کی سڑکیں سجائی گئیں اور جس کے نام پر ہندوستانی غرور کا مینار
کبھی کبھی تاریخ خاموشی سے اپنے فیصلے سنا دیتی ہے۔ نہ ڈھول پیٹے جاتے ہیں نہ بین بجائی جاتی ہے۔ مگر وہ لمحے تاریخ کے تاج پر اپنی مہر چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ ایسے ہی لمحات حال ہی میں بیجنگ
ہم تاریخ سے سیکھنے کے دعویدار ہیں مگر سبق یاد رکھنے کی سکت ہم میں نہیں۔ ہماری اجتماعی یادداشت کی مدت بس اتنی ہے جتنی کسی اسمارٹ فون کی بیٹری ۔ ذرا سا جھٹکا اور سب ڈیٹا اڑن چھو! ہم
اگر کبھی کسی زندہ قوم کی نشانیوں کو شمار کرنا ہو تو فہرست میں کہیں نہ کہیں قومی وقار ضرور ہوگا اور اگر مردہ قوموں کی قبریں کھودنی ہوں تو وہاں سے شرمندگی، دہرا معیار اور منافقت کی ہڈیاں ہی