کیا ہم اُدھر کے اُدھر ہی کھڑے ہیں؟
آپ نے اکثر یہ جملہ سنا ہوگا کہ ’’ہم ابھی تک ادھر کھڑے ہیں جہاں سات دہائیاں پہلے تھے۔‘‘ یہ اشارہ قیام پاکستان کے وقت کی طرف ہوتا ہے ۔ ایسی باتیں، تجزیے، تبصرے اور آہوں سے مزین بیانات بھی
آپ نے اکثر یہ جملہ سنا ہوگا کہ ’’ہم ابھی تک ادھر کھڑے ہیں جہاں سات دہائیاں پہلے تھے۔‘‘ یہ اشارہ قیام پاکستان کے وقت کی طرف ہوتا ہے ۔ ایسی باتیں، تجزیے، تبصرے اور آہوں سے مزین بیانات بھی
چند روز سے ملکی فضا بڑی سوگوار ہے۔ مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے ہولناک واقعات رونما ہوئے۔ ان کی تفصیل سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ دل رنج و الم سے بھاری ہے، بے بسی اور بےچارگی کا
عہد الرواح (The Covenant of the Souls) اس عہد کا ذکر قرآن پاک میں سورۃ الاعراف کی آیت 172 میں کیا گیا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی ارواح سے پوچھا: ’’لست بِربِم‘‘ (کیا میں تمہارا رب نہیں
آگ سے آگ نہیں بجھتی، لڑائی سے لڑائی نہیں رکتی ،بدامنی سے بدامنی نہیں مٹتی ۔ آگ کے لیے پانی، لڑائی کے لیے صلح ،اور بدامنی کے خاتمے کے لیے قانون کی پاسداری کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے
انصاف اور توازن کی کئی حوالوں سے یکساں اہمیت ہے ۔ کسی بھی ڈھانچے کی بقا ، پائیداری، پختگی اور مجموعی قبولیت کے لیے دونوں ناگزیر ہیں ۔جیسے توازن میں بگاڑ پوری عمارت کو لرزا دیتا ہے، نظام ِعدل و
حسینہ واجد کی رسوا کن معزولی اور ملک سے شرمناک فرار پر لکھے میرے گذشتہ کالم کو بڑی پذیرائی ملی۔جو اخبار کی زینت بننے کے ساتھ سوشل میڈیا پہ بھی گردش کررہا ہے ۔ میرے حلقہ احباب کے کم وبیش

کے باپ نے قوم کو پرکشش نعروں کے ذریعے ورغلایا، دشمن ملک کے ساتھ ملی بھگت کرکے اپنی فوج کے خلاف رائے عامہ ہموار کی؛ شرپسند سیاسی پیروکاروں کو دشمن ملک سے تربیت دلوائی، اسلحہ فراہم کروایا۔ مکتی باہنی کے
دور حاضر کی تمام ترقی یافتہ قومیں بڑے بحرانوں سے گزر کر موجودہ مقام تک پہنچی ہیں۔ برسوں اندرونی و بیرونی خطرات سے نبرد آزما رہی ہیں ۔ جنگ و جدل کے خونی بھنور میں الجھی رہی ہیں۔ تمام عالمی
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مشہور قول ہے ’’کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں‘‘ ظلم کسی ایک منفی فعل کا نام نہیں، بلکہ زیادتیوں اور ناانصافیوں کا مجموعہ ہے۔ جن میں ناانصافی سب سے
ملک سے باہر جا کر دیکھو تو اس کی صحیح قدر ہو گی ۔ اس کی یاد آئے گی ۔ گھر کی مرغی دال برابر ، محاورے کے مترادف اپنے ملک کی بے شمار خوبیوں کو معمولی جان کر خاص