سیاست سے بڑی انسانیت
کچھ لمحے محض سیاسی نہیں ہوتے وہ اخلاقی کسوٹی بھی بن جاتے ہیں۔ ایسے لمحات میں ایوانِ اقتدار سے زیادہ اہم انسان کا ضمیر ہوتا ہے۔ آج پاکستان ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑا ہے جہاں فیصلے صرف آئینی اور
کچھ لمحے محض سیاسی نہیں ہوتے وہ اخلاقی کسوٹی بھی بن جاتے ہیں۔ ایسے لمحات میں ایوانِ اقتدار سے زیادہ اہم انسان کا ضمیر ہوتا ہے۔ آج پاکستان ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑا ہے جہاں فیصلے صرف آئینی اور
پاکستان میں ریاست اور شہری کے تعلق کی کہانی صرف قوانین سے نہیں بلکہ زبان سے بھی لکھی گئی ہے۔ وہ زبان جو تھانے کی دہلیز پر داخل ہوتے ہی شہری کے لہجے میں لرزش پیدا کر دیتی ہے۔ برسوں
پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں راستے دھند میں لپٹے ہوئے ہیں اور سمتوں کا تعین مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی بحران نہیں بلکہ اجتماعی شعور کے زوال کی علامت
دنیا ایک ایسے موڑ پرکھڑی ہےجہاں پرانی لکیردھندلارہی ہےاور نئی لکیر ابھی واضح نہیں ہوئی۔ یہی خلا نیوورلڈآرڈر کہلاتا ہے۔ڈیووس میں ہونے والی ورلڈ اکنامک فورم کی کانفرنس دراصل اس عالمی اضطراب کی نمائندہ تھی۔ یہ محض سرمایہ داروں اور
یہ انسانی تمدن کی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہر دور میں طاقت کا نشہ انسان کو اندھا کرتا رہا ہے اور ہر بار یہ نشہ تباہی پر ہی منتج ہوا ہے۔ آج جب ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
زندگی، وقت، فرض، غفلت اور انجام سب ایک ہی لڑی میں پرو دیے گئے ہیں۔ وقت کی رفتار تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ دن مہینے اور سال یوں ہاتھ سے پھسلتے ہیں جیسے ریت۔ ہم سمجھتے ہیں ابھی بہت
نئے سال کے آغاز پر جب پوری قوم امیدوں اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی آرزو کرتی ہے تو پاکستانی سیاست میں بھی ایک اہم تبدیلی کی جھلک نظر آ رہی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم
اگر تاریخ کے کسی باب کو ایک سطر میں سمیٹا جائے تو شائد لکھا جائے گا کہ سال2025 ء جنگوں کا سال تھا۔ جب دنیا کے نقشے پر سرخ نشان بڑھتے گئے۔ امن کی لکیریں مٹتی گئیں اور انسان ایک
یہ سوال اب کسی ماہرِ معیشت کا نہیں رہا یہ سوال اب گلی کے نکڑ پر بیٹھے چائے فروش کا بھی ہے بس کے کنڈکٹر کا بھی اور اس ماں کا بھی جو بجلی کے بل کو دیکھ کر بچوں
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے چند روز پہلے بڑے فخر اور اعتماد کے ساتھ اعلان کیا کہ ہم نے روزانہ ستر کے قریب مسافروں کو آف لوڈ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت