جب آسمان گرجا اور زمین خاموش رہی
جب بارشیں معمول سے بڑھ جاتیں یا بارش کے آثار سے زمین و کھیتوں میں نقصان کا اندیشہ ہوتا تو رسول اکرمﷺ کو بہت فکر لاحق ہو جاتی تو آپ ﷺ نہ صرف دعا کرتے بلکہ اپنے صحابہ کرام کو
جب بارشیں معمول سے بڑھ جاتیں یا بارش کے آثار سے زمین و کھیتوں میں نقصان کا اندیشہ ہوتا تو رسول اکرمﷺ کو بہت فکر لاحق ہو جاتی تو آپ ﷺ نہ صرف دعا کرتے بلکہ اپنے صحابہ کرام کو
بیجنگ کی ایک صبح‘ سورج ابھی پوری طرح ابھرا نہیں تھا مگر روشنی نے افق کو چیر دیا تھا۔ دارالحکومت کے مرکزی ایونیو پر ہزاروں فوجی قطار اندر قطار کھڑے تھے۔ ان کے قدموں کی چاپ زمین کو دہلا رہی
دنیا نے تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ منظر دیکھا ہے کہ 70 ممالک کے 250 سے زائد میڈیا ادارے اپنے ہی لب سی کر بیٹھ گئے، اپنے فرنٹ پیجز سیاہ کر دیئے، ٹی وی اسکرینیں اندھیرے میں ڈبو دیں اور
یہ قوم کتنی بدنصیب ہے کہ غریب کی تھالی میں جو لقمہ رکھنا تھا، یتیم کی ہتھیلی میں جو سکون اترنا تھا، بیوہ کی آنکھوں میں جو آس کی کرن جگمگانی تھی وہ سب افسر شاہی کے حریص پیٹ میں
یہ دنیا محض جنگی ہتھیاروں اور بارود کی دہشت سے نہیں چلتی بلکہ پانی بھی کبھی کبھی بارود سے زیادہ مہلک ہتھیار بن جاتا ہے۔ پانی جس کے قطرے میں زندگی کی رمق چھپی ہے وہی جب انسان کی ہوسِ
تاریخ کے پنوں پر بعض اوقات ایسے جملے ثبت ہو جاتے ہیں جو نسلوں کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ نصف صدی سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا 1971 ء کے زخم پاکستان کے سینے پر آج بھی تازہ
یہ زمین اللہ کی امانت ہے۔ قومیں جب اپنی امانتوں کو بھلا دیتی ہیں تو قدرت بھی اپنی مہربانیوں کے دروازے بند کر دیتی ہے۔ پاکستان 1947ء میں بنا تو ایک ایسا ملک وجود میں آیا جسے ہر اعتبار سے
بارش جو کھیتوں کے لئے رحمت اور پیاسی زمین کے لیے زندگی کا پیغام ہوتی ہے اس بار خیبرپختونخوا گلگت بلتستان اور کشمیر کے باسیوں کے لیے قہر بن گئی۔ پہاڑوں سے اترنے والے سیلابی ریلے بستیاں بہا لے گئے،
یہ وطن بار بار امتحانوں سے گزرتا ہے۔ کبھی زلزلے کی صورت میں زمین لرزتی ہے، کبھی سیلاب کی شکل میں دریا بپھرتے ہیں، کبھی طوفانی بارشیں بستیاں بہا لے جاتی ہیں اور کبھی پہاڑی تودے انسانوں کو زندہ دفن
یہ دنیا ایک شطرنج کی بساط ہے جہاں ہر چال سوچ سمجھ کر کھیلی جاتی ہے اور غلط قدم اٹھانے والے کو تاریخ معاف نہیں کرتی۔ پاکستان کے گرد بھی یہ بساط ہمیشہ بچھائی گئی۔کبھی مشرق میں ایک ایسا ہمسایہ