ایک سچا عاشق رسول
رائے منظور ناصر 21 ویں گریڈ کے سینئر بیورو کریٹ ہیں۔دو بار ڈی جی(ڈائریکٹر جنرل)اینٹی کرپشن پنجاب رہے۔پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے ایم ڈی بنائے گئے تو مدت ملازمت کے دوران 100 ایسی نصابی کتب جن میں غیر اسلامی اور
رائے منظور ناصر 21 ویں گریڈ کے سینئر بیورو کریٹ ہیں۔دو بار ڈی جی(ڈائریکٹر جنرل)اینٹی کرپشن پنجاب رہے۔پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے ایم ڈی بنائے گئے تو مدت ملازمت کے دوران 100 ایسی نصابی کتب جن میں غیر اسلامی اور
پاکستان اور افغانستان کے مابین کئی روز سے جاری جنگ کے لیئے ضروری ہو گیا ہے کہ یہ اپنی منطقی انجام تک پہنچے اور نتیجہ خیز ثابت ہو۔افغان طالبان رجیم پچھلے کئی برسوں سے القاعدہ،بی ایل اے اور ٹی ٹی
قرآن و سنتنے عدل کو نہایت اہمیت دی ہے۔حاکم سے لے کر عام فرد تک سب کو انصاف قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔انصاف کرنے والے قیامت کے دن اللہ کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔انصاف
ہماری زندگی کا مقصد کیا ہونا چاہیے؟ ہم میں سے بیشتر لوگ آج تک اس سے غافل ہیں۔سراغ زندگی میں جن کا کوئی مقصد نہیں ہوتا وہ حیات میں بے ثمر رہتے ہیں۔اسلامی نقطہ نظر سے ہماری زندگی کا اصل
ڈاکٹر عثمان انور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کی حیثیت سے اپنا عہدہ بہت سی یادیں اور محبتیں چھوڑ کر پنجاب سےرخصت ہوگئے۔ان کامسکن اب اسلام آباد ہے۔جہاں فیڈرل انویسٹی گیشن اتھارٹی کےڈی جی (ڈائریکٹر جنرل) بنا دیئے گئے ہیں۔
بسنت ایک قدیم موسمی تہوار ہےجو موسم بہار میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔بنیادی طورپریہ تہوار ہندوئوں سے منسوب ہے۔ تاریخ میں اس کا تعلق مشہور سرسوتی دیوی سے بتایاجاتا ہےجو ہندومت میں موسیقی اور آرٹ
اب آپ آن لائن شکایت کر سکتے ہیں۔جس کے لیئے پنجاب حکومت کے مختلف محکوں نے اپنی ویب سائٹس متعارف کرا دی ہیں۔وفاقی اور صوبائی سطح پر بھی محتسب کے ادارے موجود ہیں جو وفاقی اور صوبائی سطح پر سرکاری
پرنٹ میڈیا کے بعد پچھلی ایک دہائی سے الیکٹرانک میڈیا کے اثرات،عوام و الناس پر بہت گہرے،مثبت اور شاید منفی بھی ہیں۔یقینی طور پراخبار میں لکھے گئے اور ٹی وی پر دکھائے گئے مناظر اپنے اثرات چھوڑتے ہیں۔اب یہ پڑھنے
انصاف کسی بھی معاشرے میں توازن، مساوات، اخلاقیات اور عدل کا بنیادی تصور ہے۔ جس کا مطلب ہر ایک کو اس کا حق دینا،ظلم سے پرہیز اور عدل قائم کرنا ہے۔یہ صرف عدالت یا عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ
موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں صراحت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حالات کسی طرح بھی خوش کن نہیں۔سیاسی ادراک رکھنے والے تجزیہ کار موجودہ سیاسی حالات کی جو تصویر کشی کر رہے ہیں۔اسے دیکھ کر لگتا