
رب کا احسان : پاکستان
یوم آزادی کی آمد آمد ہے۔ ستتر برس قبل پاکستان آزاد مملکت کی حیثیت سے عالمی نقشے پہ ابھرا۔ راقم اس طبقے سے تعلق رکھتا ہے جو پاکستان کو عطیہ خداوندی سمجھتا ہے۔ آزاد مملکت کی صورت میں رب کریم

یوم آزادی کی آمد آمد ہے۔ ستتر برس قبل پاکستان آزاد مملکت کی حیثیت سے عالمی نقشے پہ ابھرا۔ راقم اس طبقے سے تعلق رکھتا ہے جو پاکستان کو عطیہ خداوندی سمجھتا ہے۔ آزاد مملکت کی صورت میں رب کریم
حسینہ واجد بطور وزیراعظم اپنی پانچویں مدت پوری نہ کر سکیں۔ پانچ اگست کو بادل نخواستہ مستعفی ہونے کے بعد اب حسینہ واجد کا شمار سابق وزر ائے اعظم میں کیا جائے گا۔ 15 سال سے زائد عرصے پہ محیط
یہ حقیقت شک سے بالا ہے کہ پاکستان کے دشمن ہر سمت سے ریاست کی سالمیت پر وار کر رہے ہیں سادہ لوح عوام کو ریاست کے خلاف بہکانے کے لیے جھوٹے بیانیے گڑھے جا رہے ہیں ۔ جھوٹ گھڑنے
یہ معاملہ بہت تعجب خیز ہے کہ اسلامی جہاد کی نقاب پہن کر ہتھیار اٹھانے والی تنظیمیں اکثر ان اہداف پر حملہ آور ہو رہی ہیں جن کا مسلم دشمن قوتوں سے دور کا بھی تعلق نہیں ۔ اس کی
ملکی سیاست عوام کے لئے امید کے بجائے مایوسی کا پیغام بنتی جا رہی ہے ،ایسا کرنے میں انتشار کی سیاست کرنے والے عناصر سر فہرست ہیں ۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے پہلا وار نوجوانوں کےاخلاق پر کیا دوسرا وار
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی تمام خطے کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان اس دہشت گردی کا سب سے زیادہ متاثرہ فریق ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی
مخصوص نشستوں کے تنازعے پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ملکی سیاست میں نیا ارتعاش پیدا کیا ہے۔ توقعات کے برعکس عدالتی فیصلے سے سیاسی ابہام ختم نہیں ہو پایا ۔ تحریک انصاف کا لشکر اس وقت فتح کے
بھارتی معاشرہ ہندوتو ا کے زعفرانی انقلاب کی زد میں ہے۔ نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی سر توڑ کوششیں کر رہی ہے کہ بھارت کو ہندو راشٹر کا روپ دیا جائے ۔حالیہ الیکشن کے اکھاڑے میں اترنے
کیا عام شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں ناکام ثابت ہونے والے ریاستی ادارے احترام کے مستحق ہو سکتے ہیں ؟ شفاف تفتیش کی بنیاد پہ عدالتی کارروائی کے ذریعے مجرم کو سزا دے کر مظلوم کو انصاف فراہم کرنے
یہ تاثر درست ہے کہ پاکستان کا وجود بھارت کے لئے ایک ناقابل قبول حقیقت ہے۔ چار سو سے زائد نشستیں جیتنے کے لئے مودی سرکار نے پاکستان دشمنی کا کارڈ انتخابی مہم میں کئی مرتبہ کھیلا۔ راج ناتھ سنگھ