سیکورٹی سے متعلق چینی حکام کی تشویش بجاہے
ابھی سی پیک کا دوسرا اہم فیز شروع نہیں ہوا ہے۔ لیکن اس سے متعلق سیکورٹی کے حوالے سے خدشات کااظہار چینی حکام کی جانب سے کیاجارہا ہے۔ جوکہ اپنی جگہ بجاہے۔ ماضی قریب میں جس طرح دہشت گردوں نے
ابھی سی پیک کا دوسرا اہم فیز شروع نہیں ہوا ہے۔ لیکن اس سے متعلق سیکورٹی کے حوالے سے خدشات کااظہار چینی حکام کی جانب سے کیاجارہا ہے۔ جوکہ اپنی جگہ بجاہے۔ ماضی قریب میں جس طرح دہشت گردوں نے
جونہی دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کے لئے حکومت پاکستان نے آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا تونہی بعض عناصر نے روایتی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنقیدی موقف اپنا لیا ہے۔ یہ امر شک سے
معاشی بحالی کے لئے سی پیک جیسے اہم منصوبے کی اہمیت مسلمہ ہے۔ یہ منصوبہ کئی اعتبار سے منفرد خصوصیت کا حامل ہے ۔ دہائیوں پہ محیط مثالی پاک چین سفارتی تعلقات کی ایک جہت اس عظیم منصوبے سے عیاں
یہ امر شک سے بالا ہے کہ دہشت گردی کا عفریت دوبارہ سر اٹھا رہا ہے ۔ ازلی دشمن بھارت اور اس کے عالمی مربی دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان کو داخلی اعتبار سے غیرمستحکم کرنے کے درپے ہیں۔ ماضی
یہ امر شک سے بالا ہے کہ دہشت گردی کا عفریت دوبارہ سر اٹھا رہا ہے ۔ ازلی دشمن بھارت اور اس کے عالمی مربی دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان کو داخلی اعتبار سے غیرمستحکم کرنے کے درپے ہیں۔ ماضی
نام نہاد بھارتی جمہوریہ میں انسانی حقوق کی پامالی اور اقلیتوں سے برتے جانے والے تعصب کی داستانیں عالمی میڈیا پہ گردش کر رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی مسلم کش روش انتہا کو چھو رہی ہے۔ اس
یہ امر غور طلب ہے کہ بلوچستان کو تسلسل سے دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ آخر کیوں سوشل میڈیا پہ مشکوک اکائونٹس سے بلوچ حقوق کے نام نہاد علمبردار تشدد اور نفرت کا پرچار کر رہے
راہ چلتے کوئی بد زبان اگر اپ کو گالی دے تو ممکنہ رد عمل کیا ہو سکتا ہے؟ ایک حل تو یہ ہے کہ جواب میں آپ بھی گالی دیں تاہم مہذب اور شریف انسان دشنام طرازی سے گریز کرے
ان سیاسی افلاطونوں پہ حیرت ہےکہ جو ریاستی اداروں کےخلاف پرتشددحملوں کےدفاع میں رطب السان ہیں۔ ایک برس ہونے کو آیا۔ گذشتہ نومئی کو سیاسی احتجاج کی آڑمیں جو ملک گیرفساد بپاکیاگیااسےایک خاص جماعت کےحامی فطری ردعمل قرار دےکراپنی قیادت
پاکستان میں سرحد پاردہشت گردی کاتسلسل تشویشناک ہے۔ افغانستان پہ حکمرانی کرنے والی عبوری حکومت بھی اس حساس معاملے پہ تسلی بخش حکمت عملی نہیں پیش کر پائی۔ پاک افغان دو طرفہ تعلقات کی راہ میں دہشت گردی کے کانٹے