ابو جعفر محمد بن جریر الطبری
امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری ایک جلیل القدر مورخ ‘مفسر، فقیہ اور محدث تھے ۔ان کا عظیم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے احادیث اور اقوال صحابہؓ کی روشنی میں ’’تفسیر بالماثور‘‘ مرتب فرمائی جو ایک علمی شہکار
امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری ایک جلیل القدر مورخ ‘مفسر، فقیہ اور محدث تھے ۔ان کا عظیم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے احادیث اور اقوال صحابہؓ کی روشنی میں ’’تفسیر بالماثور‘‘ مرتب فرمائی جو ایک علمی شہکار
نبی آخرالزمان ﷺکی حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’اچھی بات جہاں سے ملے حاصل کر لیں کہ یہ مومن کی گمشدہ میراث ہوتی ہے‘‘ علم عقیدے ،نظریئے یا مذہب کا پابند نہیں ہوتا ،سچ بات کوئی بھی کہہ دے اس
اسلامی تہذیب و ثقافت کا عظیم گہوارہ بغداد جسے عباسی خلیفہ المنصور نے 762 میں دریائے دجلہ کے کنارے آباد کیا۔ پھر کچھ ہی عرصہ بعد خلافت عباسیہ کا دارالحکومت بن گیا، فقط یہی نہیں بلکہ اسلامی دنیا کا علمی
اسلامی تاریخ کا عظیم شہر’’کوفہ‘‘ جس کی بنیاد خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 638 میں رکھی۔جو آپ کے دور خلافت میں دریائے فرات سے متصل عراق میں معرض وجود میں آنے والا ایسا اہم شہر تھا
شروع کی صدیوں میں جو خطے اسلام کے علمی مرکز رہے ہیں ان میں ایک دمشق بھی ہے جو اسلامی تاریخ کا ثقافتی اور علمی مرکز رہا ہے۔ دمشق کی دھرتی پر بڑے بڑے علماء اور فقہا نے جنم لیا
تاریخ اسلام اپنے دامن میں چاندستاروں کا ایک وسیع و عریض جھرمٹ لئے ہوئے ہے، اسی جھرمٹ میں سے کبھی کبھی کوئی ستارہ الگ کر کے آپ کی نذر کرتا رہتا ہوں کہ اپنے اکابرکی یادیں تازہ رہیں ۔آج آسمان
کسی قوم کے پنپنے اور پھلنے پھولنے کے لئےچھہترسال بہت ہوتے ہیں کتنی ہی اقوام ہیں جو ہم سے بعد میں آزاد ہوئیں اور ترقی و خوشحالی کے سفر میں ہم سے بہت آگے نکل گئی ہیں ۔دراصل انہیں جب
اسلام میں خواتین نے زہدو تقویٰ اور تصوف کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ابتدائی اسلامی ادوار سے لے کر بعد کے دور تک کئی خواتین نے عبادات تقویٰ اور روحانی تعلیمات کے ذریعے اسلامی تصوف کی روایت
پہلی نظر میں یوں لگتا ہے کہ جیسے مظہر سلیم مجوکہ سے ملاقات کا سامان ہو گیا ۔دراصل ان کی ذات کی لطافت یاد آجاتی ہے ،ایک انتہائی لطیف مزاج ،مرنجاں مرنج دھیمے مزاج کا کم گو آدمی جس سے
آج کا موضوع ایک ایسے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جن کا تعلق فلسطین کے ایک انتہائی معزز و مکرم قبیلے سے تھا۔مذہباً عیسائی تھے اور عیسائی حلقوں میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ان کا