افغانستان، سازشوں کا قلعہ یا بقاء کی سیاست؟
اس حقیقت سے انحراف نہیں کہ کمزور ریاستیں اکثر عالمی شطرنج کی بساط پر مہرے بن جاتی ہیں۔ افغانستان بھی ایک ایسی ہی سرزمین ہے جو گزشتہ نصف صدی سے معتدبہ پراکسی لڑائیوں میں مصروف ہے ۔ ایک طرف وہ
اس حقیقت سے انحراف نہیں کہ کمزور ریاستیں اکثر عالمی شطرنج کی بساط پر مہرے بن جاتی ہیں۔ افغانستان بھی ایک ایسی ہی سرزمین ہے جو گزشتہ نصف صدی سے معتدبہ پراکسی لڑائیوں میں مصروف ہے ۔ ایک طرف وہ
وسعت اللہ خان کے ایک شعلہ بار کالم ’’میں شیعوں کا کیا کروں ؟‘‘کے جواب میں ۔ لفظ کبھی کبھی تلوار سے زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔ وہ چرکہ جو ایک خنجر سے نہیں لگایا جا سکتا ، ایک جملہ
سیاست کے موسم کبھی یکساں نہیں رہتے۔ کبھی لفظ نرم پڑ جاتے ہیں، کبھی لہجے میں خنکی آ جاتی ہے اور کبھی ایک جملہ پورے منظرنامے کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری
دنیا کی سیاست کبھی کبھی ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوتی ہے جہاں ایک چنگاری پورے افق کو خاکستر بنا سکتی ہے۔ اس وقت عالمی منظرنامہ ایک بار پھر اسی دہانے پر محسوس ہوتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ایران
رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور ایثار کا مہینہ ہے۔ یہ وہ ماہ معظم ہےجب آسمان کی طرف اٹھنے والے ہاتھوں میں التجا بھی ہوتی ہے اوردلوں میں انسانیت کا درد بھی، مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرےمیں یہ مہینہ روحانی مسرت
پاکستانی سیاست میں یہ ایک دلچسپ موڑ ہے کہ روایتی مردانہ سیاسی فضا میں ایک خاتون رہنما عملی حکمرانی کے میدان میں اتر کر اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بارے
پاکستانی سیاست میں واقعات یا مناظر کے یک لخت یا دفعتاً بدلنے کا عمل پہلی بار رونما نہیں ہوا۔ مناظر بھی ایسے کہ دیکھنے والا آنکھیں ملتا رہ جائے کہ یہ وہی اسٹیج ہے یا پردے کے پیچھے کوئی اور
دوہری حکمتِ عملی پی پی پی کی وقتی سیاست نہیں بلکہ مستقل مزاج بن چکی ہے۔ حالیہ دنوں حکومت کی مجوزہ سولر پالیسی پر پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات اور تعاون واپس لینے کی دھمکی اسی سیاسی روش کی تازہ
(گزشتہ سے پیوستہ) عوام کے دلوں میں یہ تاثر بیٹھنے لگتا ہے کہ مذہبی زبان دراصل سیاسی مفاد کا پردہ ہے۔اس صورت میں مذہب طاقت کو مہذب بنانے کے بجائے طاقت کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ لوگ دین سے
برصغیر کی سیاست میں بھٹو خاندان محض ایک سیاسی نام نہیں بلکہ ایک داستان ہے اقتدار، قربانی، جلاوطنی اور سانحات سے لبریز داستان۔ اسی داستان کی ایک خاموش مگر حساس وارث فاطمہ بھٹو ہیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی،