ٹرمپ کا ملٹری ڈریم ایک نئی عالمی جنگ کا استعارہ
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب طاقت ہولناک خوابوں کی تعبیر یں بننے لگے تو انسانیت کی نیندیں اچاٹ ہوجاتی ہیں اور وہ سوتے جاگتے اپنے مقدر پر روتی ہے۔ سلطنتِ روم سے لے کر نپولین، ہٹلر اور بش تک،
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب طاقت ہولناک خوابوں کی تعبیر یں بننے لگے تو انسانیت کی نیندیں اچاٹ ہوجاتی ہیں اور وہ سوتے جاگتے اپنے مقدر پر روتی ہے۔ سلطنتِ روم سے لے کر نپولین، ہٹلر اور بش تک،
اس بار اسلام آباد کے سفر میں ایک درد اور ایک دلی آرزو کے بر آنے کی خوشی،دو ایسے امر تھے جو لازم و ملزوم تھے، دکھ یہ کہ اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم بیٹی پر شدید
جمہوریت کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ اقتدار کی اصل قوت عوام ہوتے ہیں۔ ووٹ کی پرچی کو ایک ایسی مقدس امانت قرار دیا جاتا ہے جو حکمرانوں کے عروج و زوال کا فیصلہ کرتی ہے۔ مگر پاکستان جیسے معاشروں
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں صوبوں کے باہمی تعلقات کبھی محض انتظامی معاملہ نہیں رہےبلکہ یہ تعلقات ہمیشہ طاقت،اختیاراورمرکزسےقربت یا دوری کے پیمانے پر پرکھےجاتے رہے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے فوراًبعد ہی یہ سوال جنم لے چکا تھا کہ وفاق
قوموں کی تاریخ میں بعض سال محض کیلنڈر کے اوراق نہیں ہوتے، وہ اجتماعی شعور کا آئینہ بن جاتے ہیں۔ 2025 ء پاکستان کے لیے بھی ایسا ہی سال رہا ایک ایسا سال جس میں سیاست کی گرد، معیشت کی
ہر نظام کے اردگرد کچھ ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو خود کو اس نظام کا محافظ ہی نہیں، اس کا وارث اور سرپرست بھی سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ لوگ نظام کے خادم نہیں ہوتے، بلکہ اس کے قیم بننے
انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی سوال ایسا ہو جس نے عقل، ایمان، فلسفہ اور سائنس کو بیک وقت مضطرب رکھا ہو، جتنا اس سوالِ نے کہ کیا خدا موجود ہے؟ یہ سوال نہ نیا ہے، نہ محض الحادی ذہن
ہمارے معاشرے میں بے رحمی اور سنگ دلی جس رفتار سے معمول بنتی جا رہی ہے، اس کا سب سے دل خراش اظہار ان شعبوں میں دکھائی دیتا ہے جنہیں کبھی خدمت، ایثار اور انسان دوستی کی علامت سمجھا جاتا
تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں اس دن کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں جب وہ سوال سے خوف زدہ ہو جائیں۔ جب چند نہتی عورتیں، چند سو عام شہری، یا ایک قیدی نمبر محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک علامت
ریاستیں صرف سرحدوں،قوانین اور اداروں سے نہیں بنتیں، بلکہ رویوں، اقدار اور اخلاقی حدود سے پہچانی جاتی ہیں۔ جب کوئی ریاستی منصب پر فائز شخص کسی فرد کے جسم، لباس یا شناخت کو نشانہ بناتا ہے تو دراصل وہ صرف