نتیش کمار کے عمل کا تہذیبی و سیاسی محاسبہ
ریاستیں صرف سرحدوں،قوانین اور اداروں سے نہیں بنتیں، بلکہ رویوں، اقدار اور اخلاقی حدود سے پہچانی جاتی ہیں۔ جب کوئی ریاستی منصب پر فائز شخص کسی فرد کے جسم، لباس یا شناخت کو نشانہ بناتا ہے تو دراصل وہ صرف
ریاستیں صرف سرحدوں،قوانین اور اداروں سے نہیں بنتیں، بلکہ رویوں، اقدار اور اخلاقی حدود سے پہچانی جاتی ہیں۔ جب کوئی ریاستی منصب پر فائز شخص کسی فرد کے جسم، لباس یا شناخت کو نشانہ بناتا ہے تو دراصل وہ صرف
تاریخ جب عظیم انسانوں کے تذکرے کرتی ہے تو عموماً نگاہیں ان کی فکری بلندی، روحانی عظمت اور سماجی اثرات پر ٹھہر جاتی ہیں۔ ہم ان کے اقوال، خدمات اور کارناموں کو محفوظ کرتے ہیں، مگر اکثر اس خاموش حقیقت
متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ جو خشک پہاڑی سلسلوں کے بیچ بچھی سر سبز و شاداب وادیوں پر مشتمل ہے۔سفری راستے ایسے کشادہ اور ایسے پرکشش کہ جن سے ایک پل کو نگاہ نہیں بھٹکتی کہ ساعت بھر کو
تاریخ کی شاہراہ پر قدم رکھتے ہوئے اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ تہذیبیں محض عمارتوں اور شاہراہوں میں نہیں بلکہ اپنے دریاؤں، وادیوں اور ساحلی کناروں پر بھی محفوظ رہتی ہیں۔ دریاؤں اور پانی کی گزرگاہوں نے ہمیشہ انسانی
پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی الجھنیں کسی ایک عہد، حکومت یا چند پالیسی غلطیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ سات دہائیوں میں پھیلنے والا وہ تاریخی تسلسل ہیں جنہوں نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور، فیصلوں کو متزلزل، اور معیشت کو
پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی الجھنیں کسی ایک عہد، حکومت یا چند پالیسی غلطیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ سات دہائیوں میں پھیلنے والا وہ تاریخی تسلسل ہیں جنہوں نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور، فیصلوں کو متزلزل، اور معیشت کو
جن لوگوں کے پاس حسرت تعمیر کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا وہ عمر بھر سازشیں کرتے اور سازشوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں ۔نواز حکومت ہو یا شریف خاندان یہ فقط سہاروں سے جینے کے خوگر رہے ہیں اور انہیں
سنرجی سے مراد ہے’’دو یا دو سے زیادہ قوتوں کا ایسا باہمی اشتراک جس سے حاصل ہونے والا مجموعی فائدہ ان کے الگ الگ عملی فائدے سے زیادہ ہو‘‘پاکستان کے قومی سلامتی کے ماڈل میں ’’سنرجی‘‘ ایک بنیادی عنصر کے
سیاسی چیرہ دستی، یعنی اقتدار کو قائم رکھنے کا وہ طریقہ جس میں جبرو استحصال کو ہتھیار بنایا جائے۔یہ رویہ تاریخ، سماجیات اور عملی سیاست کے لحاظ سے گہری معنویت رکھتا ہے ۔اس ناروا رویئے سے وقتی کامیابی تو حاصل
ہمارےیہاں یہ امرہر دور میں ایک سوال کی صورت ابھرکر سامنےآتا رہا ہےکہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی فکری بصیرت کاحقیقی اظہاران کی فارسی اوراردو شاعری میں ہوا ہےیاانکےان خطبات میں جو “تشکیل جدیدالہیات اسلامیہ” کی شکل میں منصہ