منافقین کا خطرناک انجام
(گزشتہ سے پیوستہ) حضرت جنید بغدادی ؒفرماتے ہیں کہ دلوں کے امراض،خواہشات نفسانی کی اتباع سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے دلوں میں مخفی کفر کو مرض فرمایا گیا ہے کہ جو روحانی اور جسمانی دونوں اعتبار
(گزشتہ سے پیوستہ) حضرت جنید بغدادی ؒفرماتے ہیں کہ دلوں کے امراض،خواہشات نفسانی کی اتباع سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے دلوں میں مخفی کفر کو مرض فرمایا گیا ہے کہ جو روحانی اور جسمانی دونوں اعتبار
قرآن و حدیث کے پاکیزہ سمندر سے مندرجہ ذیل چند نایاب موتی ڈھونڈ کر اس کالم کی زینت اس لئے بنا رہا ہوں تاکہ ہمارے جن دانشوروں سیاست دانوں حکمرانوں کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کو قرآن و حدیث کی
غزہ جنگ اگرچہ طویل ہوتی جا رہی ہے لیکن ہمارے ایمان میں کمزوری نہیں آنی چاہئے ہزاروں شہدا کے خون سے ان شا اللہ فلسطین ضرور آزاد ہوگا ابھی ہمارے سامنے افغانستان کی مثال موجود ہے جو 20 سال بعد
مولانا قاضی عبد الرشیدؒ بھی چل بسے،وہ، وفاق المدارس پنجاب کے ناظم اعلیٰ جامعہ فاروقیہ دھمیال کے مہتمم ، شیخ الحدیث اور تمام دینی تحریکوں کے سرپرست اور روح رواں تھے ،وہ مسلک دیوبند کے ایسے سپوت تھے، کہ جن
ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ابھی تک پاکستانی قوم کو آئین کے مطابق اسلامائزیشن کا حق بھی نہیں دے سکے،اگر آئین کے مطابق اسلامائزیشن کی سہولت ہی عوام کو مہیا کر دی جاتی تو
یاایھا الذین آمنوا قواانفسکم واھلیکم نارا وقودھاالناس والحجارۃ اسلام ایک پاکیزہ، پرامن مہذب معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے اور اس کیلئے مختلف مدارج میں مختلف افراد کی ذمہ داریاں لگائی ہیں ۔ اولاً والدین کو ذمہ داری دی ہے کہ
’’حق‘‘کا بول بالا ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا،گو کہ 6 فروری سے لے کر22 اگست کی دوپہر تک سپریم کورٹ کے انتہائی متنازعہ فیصلے کی وجہ سے ساری قوم غم وغصہ سے دوچار رہی،اس دوران فرنگی سامراج کے
(گزشتہ سے پیوستہ) امام ابو حنیفہؒ کی ذہانت، حاضر جوابی اور معاملہ فہمی مشہور ہے۔ کوفہ کے گورنر این ہیرہ نے ایک بار امام صاحبؒ سے اپنے پاس آنے کی درخواست کی۔ آپؒ پہنچے دیکھا کہ ایک نگینہ اس کے
اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے جو انسانیت کے لئے دستور حیات ہے ، ان الدین عنداللہ الاسلام ،زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے اور ہر ایک کے لئے اس کا دائرہ کار واضح کرتا ہے جناب
14 اگست کا دن کابل کی فتح کی تیسری سالگرہ کا دن ہے۔ تین سال قبل اس دن امارت اسلامیہ کے مجاہدین تقریبا ًدو ہفتے تک جاری رہنے والی لڑائی میں 32 صوبوں کی فتح اور امیر المومنین حفظہ اللہ