ڈیجیٹل دہشت گردی سے بنوں دہشت گردی تک
ڈی جی آئی ایس پی آر کی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو اس قدر بھرپور اور جامع ہے کہ میری دانست میں اس پر مزید تبصرہ یا حاشیہ آرائی کار لا حاصل ہے،شنید یہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس
ڈی جی آئی ایس پی آر کی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو اس قدر بھرپور اور جامع ہے کہ میری دانست میں اس پر مزید تبصرہ یا حاشیہ آرائی کار لا حاصل ہے،شنید یہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس
لوگ جب دجالی چینلز اور اسلام آباد کی سڑکوں پر ایک مادر پدر آزاد مٹھی بھر گروہ کی آنٹیوں کو عورتوں کے حقوق کے نام پر شورو غوغا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر یہ آنٹیاں
ہمارے نائب ناظم کا آپریشن تجویز ہوا، ڈاکٹر نے ان سے سرپرست کا نام پوچھا انہوں نے میرا نام لکھادیا۔ اس نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ کہا کہ یہ ہمارے روحانی معالج ہیں۔ ڈاکٹر نے تعجب سے پوچھا کہ روحانی
(گزشتہ سے پیوستہ) سیدنا امام حسینؓ کی شہادت عظمیٰ کے بعد آپ کی نسل روئے زمین میں آپ کے صاحبزادے سیدنا علی المعروف امام زین العابدینؓ سے پھیلی ہوئی ہے۔ اور شہزادی حضرت فاطمہ صغراؓ سے بھی آپ کی نسل
نواسۂ سید الابرارؐ سیدناامام حسین ؓ کی ازواج کے متعلق روایات شاہدہیں کہ آپ کی کل ازواج کی تعداد پانچ تھی ۔ان کے علاوہ کربلامیں آپ کی ہمشیرہ حضرت زینب ؓاورآپ کی صاحبزادی حضرت سکینہؒ کاخاص کردارہے۔ذیل میں خانوادہ حضرت
آج بڑی تیزی سے اہل اسلام یوروپ اور مسیحی ممالک کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ پہلے بھی کرتے رہے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بنیاد مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے ان کی نسلیں ان کے
سوشل میڈیا پر جاری مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے سدباب کے لئے ریاستی ادارے متحرک ہو رہے ہیں،جو کہ قابل تحسین امر ہے۔اس کا سہرا یقینی طور پر موجودہ سپہ سالار جنرل
قرآن مجید‘ ایک سراپا اعجاز کتاب ہے اس کا ایک ایک لفظ علم و حکمت کا خزینہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر دو ہر خطہ کے ہر ایک انسان کی مکمل رہنمائی کے لئے
ایک خبر کے مطابق امارت اسلامیہ کی بحالی کے بعد 1000سکولوں کے لیے نئی معیاری عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ وزارت تعلیم کے ترجمان منصور احمد حمزہ نے کہا کہ امارت اسلامیہ کی بحالی کے بعد 1000 سکولوں کے لیے
مولانا ابوالکلام آزاد نے فرمایا تھا کہ ہمارے نزدیک اسلام کے دامن تقدیس پر اس سے بڑھ کر اور کوئی بدنما دھبہ نہیں ہو سکتا کہ انسانی حریت اور ملکی فلاح کا سبق مسلمان دوسری قوموں سے لیں ‘ آپ