ایرانی صدر کی آمد اوربلاول کے ارسطو!
ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی ، پیر کے روز اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے،پاکستان میں ان کا قیام تین روز رہا۔اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان اہم معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں پر دستخط بھی ہوئے، خاتون
ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی ، پیر کے روز اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے،پاکستان میں ان کا قیام تین روز رہا۔اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان اہم معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں پر دستخط بھی ہوئے، خاتون
غزہ کی پٹی کے مسلمانوں کو اس بات کا احساس نہیں تھا کہ صیہونی جارحیت کے خلاف ان کی استقامت اور ان کے پختہ ایمان کے نتیجے میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے درجنوں افراد اسلام قبول کر لیں
سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث اکائونٹس، پیجز کو بلاک کرنے کے لئے تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان نے پی ٹی اے کو باضابطہ طور پر
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سلیم اعجاز دامت برکاتہم العالیہ جامعہ انوار العلوم دھیر کوٹ کے مہتمم اور آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کی انتہائی متبحر علمی شخصیت ہیں،خطہ کشمیر کے ممتاز اور جئید عالم دین شیخ الحدیث مولانا
72 وفاقی اداروں، اور ایپک فورم سے منسلک 28 اداروں کے تقریباً چار لاکھ سے زیادہ متاثرہ‘برطرف ملازمین کی تنظیم(ایپک فورم) کے چیئرمین محمد جاوید اعوان کے مسلسل رابطوں کی وجہ سے اس خاکسار کو بھی مظلوم مزدور ملازمین کی
ایک سال میں 94ہزار کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، پچھلے ایک سال میں یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ ساٹھ ہزار ہو گئی۔ دسمبر 2017ء میں 98 لاکھ لوگ جی ایس ٹی ادا کرتے تھے، آج یہ تعداد 1کروڑ 40لاکھ سے زیادہ
کوئی شک نہیں کہ نریندر مودی گجرات میں سینکڑوں، ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کروانے والا ’’قصائی‘‘لاریب کہ نریندر مودی کا دور حکومت صرف مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ بھارت میں بسنے والے اٹھائیس،
امریکہ کو اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کی بڑی فکر ہے۔ تبھی تو اس نے پہلی دفعہ درست بات کی ہے کہ دنیا میں یہودیوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے، امریکہ یہ راز جان چکا ہے کہ اس کی
(گزشتہ سے پیوستہ) سورۃ البقرہ میں ارشادہے: ذلک الکتاب لاریب فیہ ’’یہ (اﷲ تعالیٰ کی) کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘ ایمان کا ایک تقاضہ یہ ہے کہ اﷲ کی پوری کتاب پر ایمان لانے اور بلاتفریق اس کے
(گزشتہ سے پیوستہ) اسی اثناء میں حضرت عباسؓ بھی وہاں پہنچ گئے فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سفیانؓ کی آواز پہچان لی تھی چنانچہ حضرت عباسؓ نے بتایا کہ یہ آنحضرتﷺ ہیں اپنے اصحابؓ کے ساتھ اب قریش کی