’’پنبہ کجا کجا نہم‘‘
اسلام آباد کی عدالت عالیہ کے جج صاحبان نے کمال جرات کا مظاہرہ کیا، سابق جج شوکت صدیقی کے مقدمہ کا فیصلہ ہوتے ہی ، اپنا دکھ سپریم جوڈیشیل کونسل کے سامنے رکھ دیا اور الزام لگایا کہ انٹیلی جنس
اسلام آباد کی عدالت عالیہ کے جج صاحبان نے کمال جرات کا مظاہرہ کیا، سابق جج شوکت صدیقی کے مقدمہ کا فیصلہ ہوتے ہی ، اپنا دکھ سپریم جوڈیشیل کونسل کے سامنے رکھ دیا اور الزام لگایا کہ انٹیلی جنس
شائد بعض لوگوں نے طے کررکھا ہے کہ جس طرح ان کی اپنی عزت اوروقار کوئی نہیں وہ ملک کی عزت اور وقار بھی قائم نہیں رہنے دیں گے،ان لوگوں نے ہر حال میں اپنے اس وطن کے لئے رسوائیاں
معروف معنوں میں ایک انٹیلی جنس ایجنسی تو یہ پہلے بھی نہ تھی ،روز اول سے ہی پورے خطے میں میں قتل وغارت ، دہشت گردی ، خونریزی ، سمگلنگ اور جرائم پیشہ گروپوں کی سرپرستی اس کی واحد مہارت
مقدر کی بات ہے،کوئی برہان وانی اننت ناگ کی گل پوش وادیوں میں دشمن کے مقابل خم ٹھونک کر میدان میں اترتا ہےا ور پاکستان کا پرچم بن کر لہراجاتا ہے ،اسی لمحے وہ گمنامی سے نکل کر کروڑوںکشمیریوں اور