سال2025 ء کا آغاز
سال2025 ء آپ سب کو مبارک ہو۔ تاہم یہ سال بہت احتیاط کا ہے۔ توبہ و استغفار و معمول بنا لیں تاکہ فتنہ آخر زمان ‘ ناگہانی حادثات اور واقعات سے محفوظ رہ سکیں۔ جس کی گارنٹی اور ضمانت اللہ
سال2025 ء آپ سب کو مبارک ہو۔ تاہم یہ سال بہت احتیاط کا ہے۔ توبہ و استغفار و معمول بنا لیں تاکہ فتنہ آخر زمان ‘ ناگہانی حادثات اور واقعات سے محفوظ رہ سکیں۔ جس کی گارنٹی اور ضمانت اللہ
اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو پر محیط ہے۔ یہ نہ صرف عبادات اور اخلاقیات کو بیان کرتا ہے بلکہ معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی نظام کے لیے بھی واضح اصول فراہم کرتا ہے۔
اسلام میں عورت کا مقام ایک منفرد اور عظیم حیثیت رکھتا ہے۔ یہ حیثیت نہ صرف دینی معاملات میں نمایاں ہے بلکہ سماجی، اقتصادی اور سیاسی معاملات میں بھی ابتدائی ادوار میں واضح نظر آتی ہے۔ ابتدائی اسلامی دور میں
اسلامی ابتدائی سنہری دور سائنسی، طبی، ریاضی اور فنون کے میدان میں غیر معمولی کامیابیوں کا زمانہ تھا۔ مسلمان علماء نے نہ صرف قدیم تہذیبوں کے علم کو محفوظ کیا بلکہ اسے مزید بہتر، جدید اور دنیا کے لیے انقلابی
مولانا جلال الدین رومی ؒنے ایک بار اپنے دوست شمس الدین تبریزی سے سوال کیا،نفس کی آگ کو کیسے ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے؟شمس نے مسکرا کر جواب دیا،استغنا کے ذریعے۔ استغنا اختیار کرو، میرے دوست، کیونکہ جو مال دنیا
شام میں ایک غیرمتوقع اورڈرامائی تبدیلی نے اہل فکر و علم کو الرٹ کردیا ۔ بشار الاسد کی جابر اور ظالم حکومت بغیر کسی مزاحمت کے اچانک اقتدار سے دستبردار بحق Hayat Tahrir al- Sham (HTS) جس نےملک کا کنٹرول
حالیہ ڈرامائی انداز میں سیریا حلب میں جو واقعات اور تبدیلی آئی، یہ آرمگڈان یا ملحمۃ الکبری کی طرف اشارہ ہے۔ دورِ حاضر میں امت مسلمہ کو جن فتنوں کا سامنا ہے، وہ کئی پہلوئوں سے دجالی پلان کا حصہ
انسانی تاریخ کے ایک منفرد اور بے مثال دور میں ہم داخل ہو چکے ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی ترقی نے دنیا کو بدل کر رکھنے کا آغاز کردیا ہے۔ یہ ترقی نہ صرف ہمارے فہم اور اندازوں
پاکستان بڑا بھائی بن کر بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوے تمام بین الاقوامی مصلحتوں کو بالاے طاق رکھ کر افغانستان موجودہ حقیقی حکومت کوفوری طور پر تسلیم کرے اور یہ فقط اللہ کی رضا اور حکم خدا کی پیروی
اسلام نے علم کو عظیم قدر کے طور پر پیش کیا ہے اور اسے انسان کے ایمان اور کردار کی بنیاد قرار دیا ہے۔ تاہم، علم دین کو حاصل کرنے کے لیے استاد یا شیخ کی رہنمائی کو ضروری قرار