برائی کی بڑائی کا کیا عجب زمانہ ہے
اک زمانہ تھا والدین بچے کو اچھائی اور برائی کی شناخت کراتے تھے ۔ دونوں میں فرق سمجھاتے تھے ۔ آداب محفل سکھاتے تھے ۔ خوش کلامی اور خوش اخلاقی کی تربیت دیتے تھے ۔ اچھی بات کی تلقین اور
اک زمانہ تھا والدین بچے کو اچھائی اور برائی کی شناخت کراتے تھے ۔ دونوں میں فرق سمجھاتے تھے ۔ آداب محفل سکھاتے تھے ۔ خوش کلامی اور خوش اخلاقی کی تربیت دیتے تھے ۔ اچھی بات کی تلقین اور
وطن عزیز روزِ اول ہی سے مسائل کی زد میں چلا آرہا ہے ۔ کبھی آئینی مسئلہ اور کبھی معاشی مسئلہ سر اٹھا لیتا ہے ۔ ان مسائل کے جھٹکے رکتے نہیں کہ سیاسی مسائل جنم لے لیتے ہیں ۔
کائنات کا حسن، قدرت کی عطا کردہ رعنائیوں اور نعمتوں میں مضمر ہے ۔ اس میں پہاڑ ، جنگل ، صحرا ، سمندر ، میدان اور دریا شامل ہیں ۔ یہ سب صورتِ خاک کو دلفریب رنگوں سے سجا دیتے
پاکستان ٹوٹا تو بہت کچھ ٹوٹ گیا۔ لازوال قربانیوں سے وطن عزیز کو آزاد کرانے والے اسلاف کا مان ٹوٹا ۔ کروڑوں محب وطن لوگوں کا دل ٹوٹا ۔ نئی نسل کے خواب ٹوٹ گئے ۔ سب سے بڑھ کر
(گزستہ سے پیوستہ) مگر آفرین ہے بابائے قوم اور اس کی قوم پر جس نے کمال حکمت و دانش سے وہ دعوی غلط ثابت کیا اور ملک کو صحیح سمت دے کر پٹری پر چڑھا دیا۔ بے شک بابائے قوم
آپ نے اکثر یہ جملہ سنا ہوگا کہ ’’ہم ابھی تک ادھر کھڑے ہیں جہاں سات دہائیاں پہلے تھے۔‘‘ یہ اشارہ قیام پاکستان کے وقت کی طرف ہوتا ہے ۔ ایسی باتیں، تجزیے، تبصرے اور آہوں سے مزین بیانات بھی
چند روز سے ملکی فضا بڑی سوگوار ہے۔ مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے ہولناک واقعات رونما ہوئے۔ ان کی تفصیل سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ دل رنج و الم سے بھاری ہے، بے بسی اور بےچارگی کا
عہد الرواح (The Covenant of the Souls) اس عہد کا ذکر قرآن پاک میں سورۃ الاعراف کی آیت 172 میں کیا گیا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی ارواح سے پوچھا: ’’لست بِربِم‘‘ (کیا میں تمہارا رب نہیں
آگ سے آگ نہیں بجھتی، لڑائی سے لڑائی نہیں رکتی ،بدامنی سے بدامنی نہیں مٹتی ۔ آگ کے لیے پانی، لڑائی کے لیے صلح ،اور بدامنی کے خاتمے کے لیے قانون کی پاسداری کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے
انصاف اور توازن کی کئی حوالوں سے یکساں اہمیت ہے ۔ کسی بھی ڈھانچے کی بقا ، پائیداری، پختگی اور مجموعی قبولیت کے لیے دونوں ناگزیر ہیں ۔جیسے توازن میں بگاڑ پوری عمارت کو لرزا دیتا ہے، نظام ِعدل و