سوشل میڈیا اور ہمارے اورسیز پاکستانی
(گزشتہ سے پیوستہ) میں نے انتہائی مخلصانہ انداز میں مشورہ دیا کہ سوشل میڈیا میں دوڑتی خبروں پر نہ یقین کیا کریں ۔ یہ زیادہ تر من گھڑت اور جھوٹی ہوتی ہیں ۔اس کے چہرے پر ابھرے تاثرات میری ناصحانہ
(گزشتہ سے پیوستہ) میں نے انتہائی مخلصانہ انداز میں مشورہ دیا کہ سوشل میڈیا میں دوڑتی خبروں پر نہ یقین کیا کریں ۔ یہ زیادہ تر من گھڑت اور جھوٹی ہوتی ہیں ۔اس کے چہرے پر ابھرے تاثرات میری ناصحانہ
جس روز پاکستان میں سالانہ بجٹ پیش ہوا میں کوپن ہیگن میں تھا۔وقتی فرق اور سیاحتی مصروفیات کے باعث بجٹ تقریر نہ سن سکا ۔ سوچا انٹرنیٹ پہ دستیاب پاکستانی اخبار سے تفصیلات جان لیتے ہیں ۔ اخبار کی شہ
کچھ روز سے میں انگلینڈ اور یورپی ممالک کا تفریحی و مطالعاتی دورہ کر رہا ہوں ۔ سیاحت کے ساتھ ان ملکوں کی تاریخ اور راز ترقی جاننے کی بھی کوشش کرتا ہوں ۔ وطن عزیز کا ان سے تقابلی
خود احتسابی کامیابی کی جانب پہلا قدم ہے۔ یہ ایک ایسی مشق ہے جو ذہن کی تطہیر اور تصیح کر تی ہے۔عالم لاشعور میں ہوئی خطائوں کی نشاندہی کر تی ہے ۔ شعوری طور پر غلط رستے پر چلنے سے
امیر ملکوں کی ترقی اور کامیابی کی تاریخ ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔جو عزم و ہمت کی طویل داستان سے عبارت ہے ۔کمال حکمت اور منفرد سوچ سے انہوں نے معاشی مسائل کا حل نکالا۔ محنت کو فکری جدت کے
پرانے دور کی مشہور کہاوت ہے جس نے سبق یاد کیا اسے چھٹی نہ ملی ۔ جس نے محنت کی اسے صلہ نہ ملا ۔ مطلب محنت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے انکا استحصال کیا جاتا ہے
وطن عزیز کو بنے پون صدی ہو رہی ہے ۔ اس کی بنیاد اسلام پہ رکھی گئی تھی۔ آزادی کی بڑی قیمتی چکانا پڑی تھی ۔ جان و مال کی عظیم قربانیوں کے بعد یہ ملک حاصل ہوا تھا ۔
کل شب سوشل میڈیا پہ گردش کرتی اک وڈیو دیکھی ۔جس نے دل کو بہت رنجیدہ کر دیا اور میں رات بھر سو نہ سکا ۔ ذہن پر قومی اہمیت کے واقعات کی یادوں کے غول منڈلانے رہے۔ دھرتی ماں