01:42 pm
ڈاکٹر طہٰ حسین‘ ابن خلدون‘ مولانا حنیف ندوی

ڈاکٹر طہٰ حسین‘ ابن خلدون‘ مولانا حنیف ندوی

01:42 pm

گزشتہ ہفتوں میں‘ مجھے لاہور کے ادارہ ثقافت اسلامیہ سے وابستہ مولانا محمد حنیف ندوی بار بار یاد آتے رہے۔ ادارہ ثقافت اسلامیہ کی بنیاد فلسفہ میں ڈاکٹریٹ‘ عربی و فارسی میں ماہر کامل‘ دینی امور میں مجتہد ’’حکمت رومی‘‘ کے مصنف اور مثنوی مولانا رومی کو اردو کا قالب دینے والے ڈاکٹر محمد اقبال کے مشہور خطبات ’’الہیات کی تشکیل جدید‘‘ کے مترجم خلیفہ عبدالحکیم ؒتھے۔
میں نے شعور کی آنکھ جب کھولی تو مولانا ابوالکلام آزادؒ کو پڑھا۔ اگرچہ کبھی کبھی مفہوم سمجھ نہ آتا تب بھی انہیں پڑھتا‘ اسی زمانے میں ردقادیانیت میں  مولانا ثناء اللہ امرت سری سے واقفیت حاصل کی اور پھر کچھ کتب مرزا غلام احمد قادیانی کی بھی پڑھی‘ جن میں عربی میں لکھی ہوئی ’’حمامتہ البشریٰ‘‘ بھی شامل تھی۔ یہ عہد میرا آغاز درس نظامی کا تھا۔
لاہور میں درس نظامی کے آخری مرحلے کے دوران جب میرا قیام ایک ماہ کے لئے محدث و محشی سنن نسائی مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کے پاس ہوا تومولانا محمد حنیف ندوی سے ملاقات مولانا اسحاق بھٹی کے گھر افطاری پر ہوئی۔ مولانا اسحاق بھٹی داڑھی سے فارغ جبکہ مولانا ندوی کی مختصر داڑھی۔ وہ قیام پاکستان سے پہلے ندوۃ العلماء میں جا کر تعلیم حاصل کرتے رہے۔ ندوۃ العلماء کی خصوصیت جدید عربی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ علم کلام‘ فلسفہ منطق کی روشنی میں معاصر دنیا کے مسائل پر اجتہادی رخ کی تعلیم تدریس‘ تجدید رہا ہے۔ سید سلیمان ندوی اس ندوۃ العلماء سے وابستہ رہے اور ان کے استاذ شبلی نعمانی نے ندوۃ العلماء کو رونق بخشی۔
شبلی نعمانی ابتدائی عمر میں ایک حنفی مقلد نوجوان تھے۔ ذہین و فسطین‘ پھر وہ سرسید احمد خان کی عقل پرستی سے گھائل ہوئے اور16سال تک علی گڑھ کالج میں تعلیم دیتے رہے تھے۔ علی گڑھ سے علیحدگی کے بعد ندوۃ العلماء کی انہوں نے  بنیاد رکھی۔ شبلی جو آغا زندگی میں حنفی بریلوی متشدد تھے‘ عقل پسندی‘ منطق‘ علم کلام سے ہوتے ہوئے ندوۃ العلماء کے یوں بانی بن گئے کہ برصغیر میں ندوۃ العلماء ہی قدیم و جدید دینی شعور کا نام ہوگیا تھا۔ حیرت اور تعجب ہوتا ہے کہ آخری عمر میں آغاز جوانی کا حنفی مقلد بریلوی شبلی نعمانی۔ ارتقاء‘ کی منازل طے کرکے حنبلی مجتہد و مفکر‘ سخت گیر توحید پرست‘ امام ابن تیمیہؒ  کو فکری امام بنانے پر مجبور ہوگئے۔ ارتقاء کے حوالے سے مجھے شبلی نعمانی کا یہ پہلو بہت ہی بھلا لگتا ہے۔ انہوں نے اپنی مشہور کتاب سیرت النبیؐ لکھی۔ آخری جلد ان کے شاگرد سید سلیمان ندوی نے لکھی۔ سید سلیمان ندوی سے ڈاکٹر محمد اقبال لاہوری ؒکا خاص تعلق قائم ہوا۔ 
’’ختم نبوت‘‘ مسئلہ کی تفہیم میں سید سلیمان ندوی نے (دیگر علماء کی طرح) اقبال ؒپر بہت گہرا اتر چھوڑا‘ تاآنکہ اقبال‘ اپنے خاندان کے کچھ افراد کے قادیانی ہونے کے باوجود بھی مرزا غلام احمد اور قادیانیت کے دشمن  بن گئے۔ سید سلمان ندوی کی کتاب ’’عمر خیام‘‘ پڑھنے کے لائق ہے۔ بات ذرا دور چلی گئی۔ واپس مولانا حنیف ندوی کی طرف آتے ہیں۔
مولانا حنیف ندوی عام مولوی کی بجائے علم کلام والے مجتہد تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے عہد میں انہیں شرعی عدالت کا جج بنانے کا فیصلہ ہوا تو متشدد اہل حدیثوں نے مخالفت کر دی کہ یہ جدیدیت کے ترجمان ہیں۔ کتاب و سنت کے نہیں۔ مگر پھر انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کا ممبر بنا دیا گیا۔ میں انہیں اسلام آباد میں ملتا‘ سگریٹ و پان خرید کر پیش کرتا‘ وہ اکثر پوچھتے تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ میں ہنس کر کہتا‘ ایک مدبر‘ مصنف اگر فکری جولان گاہ میں ہو‘ ایک خیال‘ فکر بن کر الجھا ہوا ہو تو سگریٹ کا ایک کش اگر اس مصنف و مفکر کو کچھ سکون دے سکتا ہو تو یہ خیال آفرینی فکری پختہ سوچ بن کر  قلم و قرطاس کے لئے جب وقف ہو تو مجھے بہت عمدہ محسوس ہوتا ہے۔ جواب میں وہ اکثر ہنس دیتے۔ انہوں نے ابن خلدون کو پڑھا۔ اس پر پھر تجزیہ و تنقید لکھی۔ اردو میں مقدمہ ابن خلدون یوں تو کئی پبلشر ز نے شائع کیا ہے۔ مگر لاہور کے الفیصل والوں نے مولانا حنیف ندوی کا ’’مقالہ‘‘ شامل اشاعت کرکے مقدمہ ابن خلدون کو منفرد یوں بنا دیا ہے کہ ابن خلدون سیاست دان سے لے کر بانی علوم عمرانیات و سماجیات بن کر جب طلوع ہوتا ہے تو مولانا حنیف ندوی کے سخت تنقیدی اسلوب سے زخمی و گھائل بھی ہوتا جاتا ہے۔ محمد حنیف ندوی اور مصری نابینا مفکر‘ مصنف‘ مجتہد ڈاکٹر طہٰ حسین میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں نے ابن خلدون کو اہمیت دی۔  ڈاکٹر طہٰ حسین نے فرانس کی ایک یونیورسٹی سے ابن خلدون پر پی ایچ ڈی کا مقالہ فرانسیسی میں لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ مگر مولانا ندوی نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حصول کے بغیر ہی ابن خلدون کو جرح و تعدیل کی میزان میں لاکھڑا کیا۔ اگر قارئین ڈاکٹر طہٰ حسین کا ابن خلدون پر مقالہ پڑھنا چاہیں تو جہلم کے بک کارنر والوں نے اس کا اردو ترجمہ شائع کر رکھا ہے۔
ایک دن میں نے مولانا حنیف ندوی کو سگریٹ و پان پیش کرتے ہوئے پوچھ لیا کہ فحاشی و عریانی کیا ہوتی ہے؟ اور کہاں کہاں گناہ کبیرہ بن جاتی ہے؟ وہ بولے ہر خطہ زمین پر ہر قوم کی جو ثقافت ہوتی ہے۔ جو تہذیب و تمدن ہوتا ہے اس کا عکس مرد و عورت کے جسموں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ یورپ میں وہاں کا کلچر‘ تہذیب مسلمان ممالک  سے بالکل الگ بلکہ کئی دفعہ متضاد ہوتا  ہے۔ اس سبب یورپی عورت پردہ کرتی ہی نہیں بلکہ اس کے جسم کے کئی حصے بھی عریان ہوتے ہیں مگر یورپی ممالک اور اقوام کا مزاج اسے قبول کرتا ہے ۔ ان کے ہاں عورت کا چہرہ کھلا ہوا بازو‘ سر کے بال کھلے ہوں تو ہرگز معیوب  نہیں نہ ہی یہ سبب گناہ ہے مگر ہمارے ہاں برصغیر میں یہ سب کچھ عریانی و فحاشی میں شمار کرلیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہماری تہذیب و تمدن یورپی عورت کے حوالے سے اور اپنی مسلمان عورت کے حوالے سے متضادہے۔ عریانی و فحاشی کا مسئلہ بنیادی طورپر تہذیب و تمدن اور کلچر کا مسئلہ ہے محض دین و شریعت کا مسئلہ نہیں ہے۔ میں حیرانگی سے مولانا کی باتیں سنتا رہا اور وہ سگریٹ کے کش کے ساتھ ساتھ میرے سامنے تہذیبی معاملات کی گرہیں کھولتے رہے۔
سیدنا عمر فاروقؓ عربوں کو مفتوحہ علاقہ جات کی عورتوں کے ساتھ شادی  کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ مبادا عرب معاشرت پر عجمی عورتوں کے ذریعے غلط اثرات نہ مرتب ہو جائیں۔ مگر جب فتوحات عراق و ایران کے بعد یزدگرو شاہی خاندان کی کچھ خواتین قیدی بن کر مدینہ میں آئیں تو ان میں سے ایک (شہر بانو)کی شادی حسینؓ بن علیؓ سے‘ دوسری کی اپنے بیٹے عبداللہؓ بن عمرؓ سے تیسری کی محمد بنؓ ابوبکرصدیقؓ سے کر دی کیونکہ تہذیبی تغیر و تبدل کا امکان نہیں تھا۔ برصغیر میں ادیان مختلف ہونے کے باوجود ہندو‘ سکھ‘ عیسائی‘ پارسی‘ مسلمان عورت کا لباس برصغیر کے تہذیبی مشرقی انداز میں ہوتا ہے لہٰذا ان کا عریانی و فحاشی کا معیار بھی کبھی کبھی مشترکہ ہو جاتا ہے۔



 

تازہ ترین خبریں