یار غار ومزار خلیفہ اول سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ
(گزشتہ سے پیوستہ) حضرت سیدنا علی المرتضی نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے مزید فرمایا،آپ نے کبھی کسی کو عیب نہ لگایا، نہ کسی کی غیبت کی اور نہ ہی کبھی لالچ کیا ۔بلکہ آپ
(گزشتہ سے پیوستہ) حضرت سیدنا علی المرتضی نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے مزید فرمایا،آپ نے کبھی کسی کو عیب نہ لگایا، نہ کسی کی غیبت کی اور نہ ہی کبھی لالچ کیا ۔بلکہ آپ
حضرت ابوبکر صدیقؓ اسلام کی ان برگزیدہ اور عظیم ترین ہستیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے اعلیٰ کردار اور بے مثال خدمات سے۔ قیامت تک کے لئے تاریخ کو درخشندہ بنا دیا،سیدنا صدیق اکبرؓ کو یہ منفرد اعزاز، مقام
وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ’’سلطان محمود غزنویؒ ڈاکو تھا،وہ لوٹ مار کرنے آتا تھا،لوٹ مار کر کے واپس چلا جاتا تھا ،میں اسے ہیرو نہیں مانتا‘‘،لگتا ہے کہ خواجہ آصف نوا ز شریف کو ہی محمود غزنویؒ
(گزشتہ سے پیوستہ) اس میں یہ بھی تھا کہ جب تک اس پر پوری طرح عمل نہیں ہوجاتا، سوسائٹیز ایکٹ کے تحت کو مدارس رجسٹرڈ ہورہے ہیں وہ اپنی جگہ رجسٹرڈ ہوتے چلے جائیں گے، یہ ابھی مفاہمتی یادداشت کے
آج کل مدارس رجسٹریشن کا مسئلہ ہاٹ ایشو بنا دیا گیا ہے،ایوانوں سے لے کر میڈیا کے بالا خانوں تک دینی مدارس زیر بحث ہیں، اس حوالے سے وفاق المدارس اور اتحاد تنظیمات المدارس کے سربراہ شیخ الاسلام مولانا مفتی
سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف مقدمے کا فیصلہ نوے دنوں میں نہ کرنے پر موجودہ اور سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کر
پیر کی شام اتحاد تنظیمات المدارس پاکستان کی سپریم کونسل کے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں متفقہ طور پر جو قرار داد منظور ہوئی اس میں کہا گیا ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت ترمیمی
ایک طرف مولانا فضل الرحمن ہیں کہ جو اتحاد تنظیمات المدارس کہ جس میں دیوبندی ،بریلوی،اہلحدیث، جماعت اسلامی ودیگر مسالک کے وفاق شامل ہیں،ان کی ترجمانی کر رہے ہیں،صرف یہی نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمن تو مفتی عبد الرحیم کے
مقدس سرزمین شام پرجہادیوں کی حکومت قائم ہونے کےبعد سوشل میڈیا پرایک مخصوص گروہ مختلف قسم کے پروپیگنڈے کر رہا ہے،سب سے زیادہ اس بات کا شور مچایا جا رہا ہے کہ شام میں مسلمانوں کے مابین فرقہ وارانہ فسادات
(گزشتہ سے پیوستہ) اس کے متعلق یہی خیال تھا کہ جس طرح ہر ضلع میں وزارت تعلیم کا دفتر ہوتا ہے، انہی میں 12منتخب اضلاع میں ریجنل دفاتر قائم کر دئیے جائیں گے جس کا عملہ وزارت تعلیم سے ہی