Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

ادارہ معارفِ القرآن میں مسابقہ حفظ القرآن

یہ دور مقابلوں کا دور ہے۔ دنیا کے ہر گوشے میں انسان اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لئے کسی نہ کسی میدان کا انتخاب کرتا ہے۔ یورپ اور مغرب کی بڑی جامعات میں اگر نظر دوڑائی جائے تو وہاں نوجوانوں کی توانائیاں اکثر موسیقی، گانوں، رقص اور تفریحی مقابلوں میں صرف ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ یونیورسٹی کیمپس میں ڈانس کمپیٹیشنز، میوزک

سفید محل کا روسیاہ فرعون

یہ انسانی تمدن کی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہر دور میں طاقت کا نشہ انسان کو اندھا کرتا رہا ہے اور ہر بار یہ نشہ تباہی پر ہی منتج ہوا ہے۔ آج جب ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ الفاظ سنتے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں کہ میں دنیا کے کسی بھی ملک پر حملے کا

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی توجہ کے لئے

جان ہے تو جہان ہے۔ سینکڑوں بار یہ محاورہ سن چکے ہیں بلاشبہ جان کے ساتھ ہی جہان ہے۔ لیکن شعبہ صحت کی زبوں حالی اور یتیمی کے باعث حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ نہ‘ جان کی کوئی چس رہی ہے اور نہ ہی جہان کا سواد۔ جان میں جان اس لئے بھی نہیں رہی کہ خدانخواستہ

ریڈیو سیلون اور سری لنکا

ہوائی جہاز اب سری لنکا کے دارلحکومت کولمبو اترنے کے قریب تھا۔ میں نے اپنی نگاہیں کھڑکی سے باہر جما دیں ۔ موسم ابر آلود تھا ۔ بڑے بڑے سیاہ و سفید بادلوں کے مہیب ریلوں کو چیرتا ہوا جہازجب اور نیچے اترا تو میں شہر کو ڈھونڈنے لگا ، دور دور تک درخت ،سبزہ اور ہریالی نظر آرہی تھی،یوں

جب دعائیں قبول ہونے لگیں

(گزشتہ سے پیوستہ) نئی نسل کے بدلتے مزاج نے انڈین لہرکے خلاف انتخابات کے ذریعے اقوام عالم کواضح پیغام دینے کافیصلہ کررکھاہے۔بنگلہ دیش کی نئی نسل 1971 ء کے جذبات سے آزاد،خود آگاہ،سوشل میڈیا کے وسیع کینوس پرپلی ہوئی۔جب ان سے کہا جاتاہے،تم ہمارے مرہونِ منت ہوتو وہ جواب دیتی ہے،ہم آزادہیںکسی کے مرہونِ منت نہیں۔یہی وہ لہرہے جس نے

ہیجانی بیانئے اور قیاس آرائیاں

یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سیاسی عدم استحکام کا دور پوری طرح ختم نہیں ہوا ۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچتی جا رہی ہے۔ حزب اختلاف ایک مرتبہ پھر احتجاج کی جانب مائل ہے ۔حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد جسے ’’تحریک تحفظ ائین پاکستان‘‘کا نام دیا گیا تھا، وہ بھی

کالم پروفائل