Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

28 مئی کے بعد پاکستان کا باوقار سفر

تاریخ کے اوراق جب خاموشی اور وقار کے ساتھ پلٹے جاتے ہیں تو 28 مئی 1998ء پاکستان کی قومی زندگی کا ایک ایسا تابناک اور باوقار لمحہ دکھائی دیتا ہے جو ہمیشہ عزت و افتخار کی علامت بن کر زندہ رہے گا۔ اس دن چاغی کے سنگلاخ پہاڑوں میں پاکستان نے اشتعال انگیزی کا جواب غرور سے نہیں بلکہ متانت،

لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

بھارت آج جس راستے پر چل پڑا ہے، وہ صرف ایک ملک کی سیاسی تبدیلی کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی خطرناک فسطائی سوچ کا عروج ہے جو جمہوریت، سیکولرازم، مذہبی آزادی اور انسانی مساوات کے تمام دعوؤں کو روندتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے سامنے خود کو “سب سے بڑی جمہوریت” کہنے والا بھارت درحقیقت ایک ایسی

یورپ کی ترقی کا راز اور تیسری دنیا کے لوگ

دنیا کے نقشے پر اگر کسی خطے نے جنگوں، تباہیوں اور اندرونی اختلافات کے باوجود خود کو دوبارہ کھڑا کیا تو وہ یورپ ہے۔ آج یورپ ترقی، قانون، تعلیم، ٹیکنالوجی، انسانی حقوق اور مضبوط اداروں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یورپ نے ترقی کیسے کی؟ کیا یہ صرف دولت کا نتیجہ تھا یا اس کے

قدرت کاانتقام

(گزشتہ سے پیوستہ) تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی بلکہ معیشت،خوراک اور رسد کے محاذپربھی اس کے فیصلے ہوتے ہیں۔ یادرہے کہ جنگ ہمیشہ بارودسے نہیں لڑی جاتی،کبھی کبھی روٹی بھی ہتھیار بن جاتی ہے۔یو اے ای کی سترفیصدخوراک زمینی راستوں سے آتی تھی،اور جب یہ راستے مسدودہوئے توبازاروں میں مہنگائی کاطوفان

امن کا رتھ، واشنگٹن و تہران میں پاکستان کی باوقار ثالثی

آج بھی پوری شدت کے ساتھ وہ لمحہ یاد ہے جب میں نے پہلی بار 1970ء کی دہائی میں شہرئہ آفاق فلم ’’بن ہر‘‘ سینما اسکرین پر دیکھی تھی۔ یہ ایک عظیم الشان فلم تھی جس نے گیارہ آسکر ایوارڈز اپنے نام کئے، مگر اس کی تمام تر شان و شوکت میں جو منظر میرے دل و دماغ پر سب

گاؤ رکھشا ،بیف سیاست اورمسلم دشمنی؟

بھارت میں گائے اب محض ایک مذہبی علامت نہیں رہی بلکہ ریاستی سیاست کا سب سے مؤثر ہتھیار بن چکی ہے۔ ایک طرف گائے کے تحفظ کے نام پر سخت قوانین ہیں، جذباتی سیاسی نعرے ہیں اور سماج میں مسلسل خوف اور کشیدگی کا ماحول بھی ہے جبکہ دوسری طرف یہی بھارت عالمی منڈی میں بیف کی بڑی برآمدی طاقت

کالم پروفائل