Search
Close this search box.
پیر ,06 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

’’پانی کی پکار: جنگ کا خدشہ‘‘

(گزشتہ سے پیوستہ) یہ مکمل سپیکٹرم ڈیٹرنس بیان پاکستان کی فوجی پالیسی سے ہم آہنگ ہے، جو جوہری ہتھیاروں کوبھی شامل کرتاہے،پورے خطے کی آبی اور عسکری سلامتی کوخطرے میں ڈال دیاہے جبکہ پاکستان کاردِعمل ایک زخمی سناٹے کی طرح ہے جوکہہ رہاہے:’’مت کھیل میرے آنگن کے پانی سے،یہ میری رگوں میں دوڑتی زندگی ہے‘‘ ۔آخری بات یہ ہے کہ

نپولین سے فیلڈ مارشل عاصم منیر تک

فوجی قیادت کی تاریخ ایسے جری اور باصلاحیت سپہ سالاروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے نہ صرف میدانِ جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا بلکہ اپنی قوموں کی تقدیر بھی بدل ڈالی۔ اس سفر کا نقط آغاز نپولین بوناپارٹ جیسے عظیم جنگی ذہن سے ہوتا ہے جس نے جدید عسکری حکمتِ عملی کو ایک نئی جہت دی اور

صحابہؓ اور اہل بیتؓ کی عظمت

’’صحابی‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے اوریہ’’صحبت‘‘ سے مشتق ہے،صحابی کا مطلب ہے نبی اکرم ﷺ کا صحبت یافتہ،اصطلاح شریعت میں ’’صحابی‘‘سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے، جس نے ایمان کے ساتھ آپ کی مجلس کو پایا، اگرچہ چند لمحات ہی اللہ کے نبیﷺ کے ساتھ گزارے ہوں،پھر ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی

بھارتی میڈیاکا واویلا، سچائی کا قافلہ رواں دواں

پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک نیا باب اس وقت رقم ہوا جب جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے اعلیٰ ترین عسکری عہدے پر ترقی دی گئی۔ یہ ترقی صرف ایک عہدے کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک نظریے، ایک استقامت، ایک جذبے اور ایک عزم کی توثیق ہے۔ جنرل عاصم منیر نے جس تدبر، بصیرت اور حب الوطنی سے

بھارتی مکر وفریب عالمی سطح پر بے نقاب

بھارت بیک وقت کئی محاذوں پر شکست سے دوچار ہے۔ عسکری محاذ پر پاک افواج نے مودی سرکار کے سور مائوں کو جس طرح دھول چٹائی وہ اب تاریخ میں رقم ہو چکا ہے۔ جن رافیل طیاروں پر تکیہ تھا وہ میدان جنگ میں پتوں کی طرح ہوا دینے لگے۔ جس روسی میزائل ڈیفنس سسٹم پر بھارت ناز کر رہا

فیلڈ مارشل عاصم منیر قسمت کا دھنی، مرد بحران

بعض لوگ پیدائشی خوش نصیب ہوتے ہیں، اور بعض اپنی صلاحیت، محنت اور استقامت سے قسمت کو اپنے حق میں کر لیتے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ قدرت نے انہیں خاص مقصد کے لیے چن رکھا تھا۔ وہ جہاں بھی گئے، خود کو منوا

کالم پروفائل