Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

دور جدید میں اجتہاد کی ضرورت اور دائرۂ کار

(گزشتہ سے پیوستہ) ان اصول کے دائرہ میں اس علم کا ارتقا جاری رہتا ہے لیکن اس کے بنیادی اصولوں کو نہ کبھی چیلنج کیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں جامد قرار دے کر تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر علم صرف کو سامنے رکھا جا سکتا ہے کہ اس کے اصول اور

تونسہ ایڈز سانحہ اور بی بی سی کی رپورٹ

بی بی سی دنیا کا ایک بڑا معتبر ادارہ ہے اس لیئے اس کی رپورٹ پر اعتماد کیا جاتا ہے ایسی معتبر ساکھ کی وجہ سے ذمے داری بھی بڑھ جاتی ہے لیکن تونسہ ایڈز سانحہ پر رپورٹ نے سنگین شکوک وشبہات کو جنم دیا ہے جن کی وضاحت ضروری ہے، بی بی سی آئی کی ایک رپورٹ میں دعویٰ

ٹی وی چینلز، بے حیائی اور اخلاق باختگی کے اڈے

(گزشتہ سےپیوستہ) ناقدین کے مطابق یہ پروگرام بے حیائی و فحاشی اور لچر پن کو پروان چڑھانے میں صف اول کا رول ادا کر رہے ہیں ، معاشرتی اقدار کو مضبوط کرنے کی بجائے ایک مصنوعی اور غیر حقیقی طرزِ زندگی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ریٹنگ حاصل کرنے کے لئے معاشرتی حساسیت

فلاحی ریاست کی جانب قدم یا وقتی تسکین؟

معاشروں کی پہچان صرف ان کی بلند و بالا عمارتوں، وسیع شاہراہوں اور صنعتی ترقی سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور طبقات کے لئے کتنی آسانیوں کا اہتمام و انصرام کرتے ہیں۔ ایک مہذب ریاست وہی ہوتی ہےجو اپنے شہریوں کو محض زندہ رہنے کا نہیں بلکہ باوقار زندگی کرنے کا حق

متحدہ عرب امارات — اتحاد، بصیرت، امن کا روشن نمونہ

1971 میں عرب دنیا کی تاریخ میں ایک غیر معمولی لمحہ رقم ہوا۔ خلیجِ عرب کے سات امارات اپنی اپنی شناخت، قیادت اور روایات کے ساتھ ایک ہو کر ایک قوم بن گئے،جو راستے الگ رہ سکتے تھے، وہ ایک مشترکہ تقدیر میں ڈھل گئے۔ جو تقسیم ہو سکتی تھی، وہ بھائی چارے میں بدل گئی۔یہ اتحاد محض سیاسی نہ

سفارت کی میز، جنگ کا سایہ

(گزشتہ سے پیوستہ) امریکاکے نزدیک یہ خطرے کی گھنٹی ہےجبکہ ایران اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسےمحض پرامن مقاصد کے لئے قرار دیتا ہے اورایران اسےاپنی خودمختاری کااستعارہ سمجھتا ہے۔ یہ اختلاف دراصل طاقت اورخوف کے درمیان ایک کشمکش ہے،امریکا کاخوف اورایران کی طاقت کی خواہش۔ امریکی نائب صدرجے ڈی وینس کے بیان میں ایک واضح پیغام پوشیدہ تھا،ہمیں

کالم پروفائل