استحکام کے تقاضے‘لائق تحسین قانون سازی
چار نومبر کو قومی اسمبلی میں اہم قانون سازی ہوئی۔ چھ بل منظور کیے گئے آئینی ترمیم کا مرحلہ بخوبی طے کرنے کے بعد قانون سازی کے محاذ پہ حکومت یکسو دکھائی دے رہی ہے ۔پارلیمانی محاذپہ حکومتی اتحاد کا
چار نومبر کو قومی اسمبلی میں اہم قانون سازی ہوئی۔ چھ بل منظور کیے گئے آئینی ترمیم کا مرحلہ بخوبی طے کرنے کے بعد قانون سازی کے محاذ پہ حکومت یکسو دکھائی دے رہی ہے ۔پارلیمانی محاذپہ حکومتی اتحاد کا
سنجیدہ طبقات تشویش میں مبتلا ہیں کہ ساٹھ امریکی کانگریس اراکین نے صدر بائیڈن کو پاکستان کے اندرونی معاملات پرخط کیوں لکھا۔ اسی طرح کا مروڑ بیس عدد برطانوی اراکین پارلیمان کو بھی اٹھا اور انہوں نے اپنے وزیرخارجہ کو
آئینی ترمیم پہ حکومتی اتحاد کا اطمینان دیدنی ہے ۔جشن کا سماں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بعض حضرات کی زندگی کا مقصد ہی 26ویں آئینی ترمیم منظور کروانا تھا ۔ دوسری جانب حزب اختلاف کی صفوں میں سوگ کی
دنیا بھر میں کشمیری برادری اور انسانی حقوق کے علمبردار 27 اکتوبر کو یوم سیاہ منا کر بھارت کے جبر و استبداد کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ۔ اس دن بھارت نے جموں و کشمیر میں فوج کشی کر
بھارتیہ جنتا پارٹی دنیا بھر میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ رہی ہے ۔پردھان منتری نریندر مودی کے تاج میں ایک نیا ہیرا جڑ دیا گیا ہے ۔پہلے بڑی محنت کے بعد انہیں ‘گجرات کے قصاب’ کا لقب ملا تھا۔ گجرات
آئینی ترمیم کی منظوری ہوچکی ہے۔ بظاہر یہ حکومتی اتحاد کی بڑی سیاسی کامیابی دکھائی دے رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے اس معرکے میں اپنے حامیوں کو شدید مایوس کیا ہے۔ قانون سازی دراصل پارلیمان کا بنیادی فریضہ ہے۔
بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ایک مشہور محاورہ ہے۔ اس کا مطلب سمجھنا ہو تو بھارت کی خارجہ پالیسی دیکھ لیجیے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ اجتماع میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا خطاب سن کر
ایک جانب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر سے عوام کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے تو دوسری جانب لسانی تعصب کے علمبردار معاشرے میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ یہ کون نہیں جانتا کہ کہ تمام دہشت گرد حملے
ریاست دشمن عناصر چہار جانب سے پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں پندرہ سے زائد فرزند دفاع وطن کا فریضہ انجام دیتے ہوئے شہید ہوئے۔ کراچی ائرپورٹ کے قریب چینی شہریوں کو
ہندوتوا کی علمبردار بی جے پی ہر قیمت پر مقبوضہ جموں کشمیر میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے تلملا رہی ہے ۔ دس سال کے تعطل کے بعد اب مقبوضہ علاقے میں الیکشن کا ڈرامہ اسی مقصد کی تکمیل