بیت المقدس پکار رہا ہے !
سفید ریش ،ضعیف ،کمزور وناتواں بوڑھا چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ’’اٹھو! بیت المقدس تمہیں پکار رہا ہے، غزہ کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں تمہیں پکار رہی ہیں، لبنان تمہیں صدائیں دے رہا ہے! مرد پیر اسرائیل کے ظلم
سفید ریش ،ضعیف ،کمزور وناتواں بوڑھا چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ’’اٹھو! بیت المقدس تمہیں پکار رہا ہے، غزہ کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں تمہیں پکار رہی ہیں، لبنان تمہیں صدائیں دے رہا ہے! مرد پیر اسرائیل کے ظلم
’’ایک ہم پیشہ دوست نے ن لیگ سےریاستی عزت و وقار کا سوال کیا ہے اور وہ بھی ایسی خاتون سے جو فارم 47 کے ذریعے ملک کے سب سے بڑے صوبے پر مسلط کی گئی اور پھر اس کے
دانشور ڈاکٹر سلامت اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ہم ایک ایسی قوم تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جواچھا برا،سچ جھوٹ، حلال حرام اور انصاف نا انصافی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتی ‘‘۔واقعتا ایسا ہی ہے مگر سوال یہ ہے
مرحومہ پروین شاکر نے کہا تھا کہ: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا پنجاب کی رانی پیا گھر جاتے جاتے پیا کے ساتھ کچھ سے زیادہ دنوں کے لئے لندن جارہی ہیں
ہمیں کمرے میں بٹھانے والا نہ جانے کمرے کا بلب روشن کرنا کیوں بھول گیا تھا ، شاید قدرت کی طرف سے مجھے ایک صاحب علم کے چہرے کا نور دکھانا مقصود تھا ۔وہ عصا ٹیکتے ہوئے کمرے میں داخل
ہمیں آئینہ دیکھنے کی عادت نہیں اور اب تو ہم میں یہ تاب ہی نہیں کہ آئینہ دیکھ سکیں ،وہ ہمارے ابا تھے جو ہمیں آئینے دکھاتے دکھاتے قبروں جاسوئے ،مگر جاتے جاتے وہ ہمیں یہ بتلا گئے کہ تمہارے
گلیلیو نے دعویٰ کیا کہ ’’زمین اورمتعدد اور سیارے سورج کے گرد گردش کرتے ہیں‘‘ تو چرچ نے اس پر کفر کافتوی لاگو کردیا اور اسے گھر کے اندر محصور کردیا گیاوہ نو سال قید تنہائی میں گزارنے کے بعد
مولانا نے فرمایا کہ ’’سیاستدانوں کو بااختیار بنایا جائے‘‘اور انہیں فری ہینڈ دے دیا گیا ،عدلیہ سے کھیلیں یا مقننہ سے ،اسمبلیوں کوکھیل تماشہ بنائیں یا عوام کے جذبات و احساسات سے کھل کھیلیں،انہیں بے وقوف سمجھیں یا نرا چغد
مولانا معلوم نہیں کب کے دبائے ہوئے ارمانوں کا اظہار پارلیمنٹ میں کر سکنے میں سرخرو ہوئے ہیں ۔رخش عمر کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان اپنے اندر کی سچائیوں کو باہر لانے پر مجبور ہوتا چلا جاتا ہے
( گزشتہ سے پیوستہ) شہد کی مکھیاں دور دراز جنگلوں اور بیابانوں میں پھولوں سے رس چوستی ہیں اور ایک چھتے میں جمع کرتی چلی جاتی ہیں۔انہیں یہ خبر بھی ہوتی ہے کہ کون سے پھول کا ذائقہ زہریلا ہے