اسلام، انصاف اور افغانستان کا نیا فوجداری ضابطہ
انسانیت کے ابتدائی ترین معاشروں سے لے کر آج کے جدید ریاستی نظام تک قانون کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے جو طاقتور کے ہاتھ کو روکتا اور کمزور کے سر پر سایہ بنتا ہے۔ قانون وہ
انسانیت کے ابتدائی ترین معاشروں سے لے کر آج کے جدید ریاستی نظام تک قانون کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے جو طاقتور کے ہاتھ کو روکتا اور کمزور کے سر پر سایہ بنتا ہے۔ قانون وہ
جمہوری نظام کی اصل روح پارلیمنٹ میں سانس لیتی ہے۔ یہی وہ ایوان ہوتا ہے جہاں قوم کی اجتماعی عقل، باہمی ضمیر اور مشترکہ مفادات کو قانون کی صورت دی جاتی ہے۔ مگر جب یہی ایوان عقل سے خالی، ضمیر
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت ہمیشہ شور نہیں مچاتی، بعض اوقات وہ خاموشی میں سرکتی ہے۔ سلطنتیں اکثر میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ نقشوں کی میز پر بنتی اور بگڑتی ہیں۔ وہ خطے جو کل تک حاشیے پر تھے، اچانک
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے ’’پیس بورڈ‘‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم تاریخ بھول گئے ہیں‘‘ واقعی ہم تاریخ سے نابلد ہوگئے ہیں ورنہ تاریخ تو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ’’ریاستیں اس دن زوال
(گزشتہ سے پیوستہ) دنیا اس وقت جس دوراہے پر کھڑی ہے، وہاں سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ ’’ہم ٹوٹ پھوٹ کو محض عبوری شور سمجھ کر نظر انداز کر دیں۔‘‘ڈیووس کی اس گونج کو سننا اس لیے ضروری
سوئٹزرلینڈ کے مشرق میں واقع ایک الپائن قصبہ جو سطح سمندر سے تقریباً 5.120 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور یورپ کے بلند ترین شہروں میں شمار ہوتا یے ۔ جغرافیائی لحاظ سے جرمنی ،آسٹریا اور اٹلی کے متصل
احمد خلیل قاسمی مدرسہ قاسم العلوم ملتان کے بانی مفتی محمد شفیع ملتانی کے پوتے ، مولانا عبد البر محمدقاسم کے بیٹے ہیں ۔وہ مدرسہ قاسم العلوم میں میرے ہم مکتب اور جماعت رہے ،حفظ قرآن کے بعد احمد خلیل
وعدوں سے تجربات تک‘ملتان کی سیاست حالیہ برسوں میں جس جماعت کے ساتھ سب سے زیادہ جذباتی وابستگی کے مرحلے سے گزری، وہ تحریکِ انصاف ہے۔ یہ وابستگی محض انتخابی نہیں تھی، بلکہ ایک اجتماعی امید کی صورت میں ظاہر
ایک وقت تھا جب دنیا کی معیشت ایک ہی سورج کے گرد گھومتی تھی، اور اس سورج کا نام امریکہ تھا۔ ڈالر عالمی معیشت کی زبان تھا، تیل اس کا لہجہ اور عالمی ادارے اس کی آواز۔ مگر تاریخ کی
ملتان کی سیاست کو اگر کسی ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ لفظ امید ہے۔ یہ وہ امید ہے جو بار بار جاگی، بار بار آزمائی گئی، اور اکثر بار ادھوری رہ گئی۔ پیپلز پارٹی کے حاکمیتی ادوار