مخدوم جاوید ہاشمی ایک ’’باغی‘‘یا بھٹکا ہوا راہی !
اس کی جمالیاتی حس بھی بہت تیز تھی ،تحریر کی مہارت بھی رکھتا تھا اور محبت کا جذبہ بھی ، وہ چاہتا تو یونیورسٹی کے دنوں میں ایک بھر پور رومان پروان چڑھا کر ’’جھوٹ روپ کے درشن‘‘جیسی کتاب مرتب
اس کی جمالیاتی حس بھی بہت تیز تھی ،تحریر کی مہارت بھی رکھتا تھا اور محبت کا جذبہ بھی ، وہ چاہتا تو یونیورسٹی کے دنوں میں ایک بھر پور رومان پروان چڑھا کر ’’جھوٹ روپ کے درشن‘‘جیسی کتاب مرتب
ملک کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مسجد جدیجہ الکبریٰ میں نمازیوں کے لہو کی ہولی کھیلی جارہی تھی اور ملک کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت میں گھروں کی چھتوں ہر ’’بوکاٹا‘‘کا شوربرپا تھا ۔یہ ملک کسی جغرافیے
انسانی تاریخ فقط بادشاہوں،جنگوں اور ریاستوں کی کہانی نہیں بلکہ انسانی وابستگیوں کی داستان بھی ہے۔ انسان تنہا وجود رکھنے والی مخلوق نہیں، وہ خیش قبیلے، قوم، نظریے اور عقیدے کےدائروں میں حیات کا سفر طے کرتا ہے۔ یہی دائرے
سیاست کی دہلیز پر کچھ ممالک اپنے وسائل میں ، کچھ معیشت میں کچھ اپنی حربی قوت کے حوالے سے اور کچھ اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے ناگزیریت کے حامل ہوتے ہیں۔قدرت نے پاکستان کو محض جغرافیہ کی حیثیت
بلوچستان کا نام لیتے ہی ذہن میں ایک وسیع و عریض سرزمین ابھرتی ہے سنگلاخ پہاڑ، خاموش ریگزار، معدنی خزانوں سے لبریز سینہ اور ان سب کے بیچ ایک ایسا انسان جو دہائیوں سے اپنے حصے کی روشنی کا منتظر
بلوچستان کا نام لیتے ہی ذہن میں ایک وسیع و عریض سرزمین ابھرتی ہے سنگلاخ پہاڑ، خاموش ریگزار، معدنی خزانوں سے لبریز سینہ اور ان سب کے بیچ ایک ایسا انسان جو دہائیوں سے اپنے حصے کی روشنی کا منتظر
پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے رقبے میں نہیں، آبادی میں، تاریخ میں، تہذیب میں اور محرومیوں میں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کا مطلب واقعی صرف لاہور ہے؟ یا پھر لاہور کو پنجاب سمجھ لینے
شاہی خاندان پر کوئی قدغن نہیں، آئین و قانون سے ماوراکو ئی بھی عمل روا ہے ، عوام ہوں یا خواص اعتراض کیوں کرتے ہیں ، عدالتیں ان کی ، ایوانوں پر ان کا قبضہ ،وزیرومشیر ان کے زرخرید، عوام
ریاستیں محض جغرافیہ نہیں ہوتیں وہ اپنے رویوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ کسی معاشرے کی اصل شناخت اس کے طاقتور طبقے سے نہیں، بلکہ اس کے کمزور شہریوں سے بنتی ہے۔ اقلیتیں کسی بھی ملک کے لئے بوجھ نہیں ہوتیں،
انسانیت کے ابتدائی ترین معاشروں سے لے کر آج کے جدید ریاستی نظام تک قانون کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے جو طاقتور کے ہاتھ کو روکتا اور کمزور کے سر پر سایہ بنتا ہے۔ قانون وہ