نہیں بندوق کے زور پر نہیں
رشتے اور تعلقات اعتماد سے بنتے ہیں بندوق کے زور پر نہیں،مریدکے کے نواح میں جی ٹی روڈ پر ٹی ایل پی کے شرکاِ مارچ پر کئے جانے والے حکومتی ایکشن کی کسی قیمت پر تائید نہیں کی جا سکتی
رشتے اور تعلقات اعتماد سے بنتے ہیں بندوق کے زور پر نہیں،مریدکے کے نواح میں جی ٹی روڈ پر ٹی ایل پی کے شرکاِ مارچ پر کئے جانے والے حکومتی ایکشن کی کسی قیمت پر تائید نہیں کی جا سکتی
نئی صدی کے اس دورِ فتن میں، جب علم و عقل کے نام پر گمراہی کو نظریہ اور بے دینی کو روشن خیالی کا جامہ پہنا دیا گیا ہے، مسلمان نوجوان شدید فکری یلغار کی زد میں ہیں۔ سوشل میڈیا
سب سے بڑے ظالم تو وہ ہیں کہ جو ایک طرف عورتوں کے حقوق کے مامے چاچے بنتے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے عورتوں کو شوپیس بنا رکھا ہے،دنیا میں عورتوں کا سب سے زیادہ استحصال یورپ اور امریکہ
10 اکتوبر 2025ء کو مولانا عادل خان کی شہادت کو پانچ برس بیت گئے، سوال یہ ہے کہ اتنی عظیم علمی شخصیت کے قاتل ابھی تک گرفتار کیوں نہ ہو سکے؟ کراچی کے مفتی عبدالرحیم المعروف استاد صاحب پچھلے چند
نسلی و قومی امتیاز کے تصورات دنیا کی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی قوم، اپنے رنگ، اپنی نسل اور اپنے نظرئیے کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے وہ یہ خیال کرتا ہے کہ برتری صرف اس
کاش کہ ہماری صحافتی تنظیمیں اور صحافتی لیڈران صیہونی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے غزہ کے شہید صحافیوں کے لئے بھی آواز حق بلند کرتے ،کاش،اے کاش! پاکستانی پریس کلبوں میں بھی غزہ کے شہید صحافیوں کی یاد میں
آج کے دورِ جدید میں جہاں دنیاوی مصروفیات، خود غرضی اور مادہ پرستی نے انسانی رشتوں کی بنیادیں کمزور کر دی ہیں، وہاں ایک نہایت افسوس ناک رجحان یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ اولاد اپنے والدین کے ساتھ
’’وفاق المدارس العربیہ‘‘کو ابھی تک پاکستانی قوم اپنی آن، بان اور شان سمجھتی ہے،قوم کے چالیس لاکھ کے لگ بھگ طلباء وطالبات کی تعلیمی و تربیتی ،اخلاقی اعمالی ضروریات کو پوری کرنے کی کوششوں میں مصروف اس ’’وفاق‘‘کو یہ خاکسار
حضرت اقدس پیرو مرشد حفظہ اللہ رقمطراز ہیں کہ اللہ تعالیٰ‘اہل غزہ اور ان کے تمام معاونین کی خصوصی نصرت فرمائیں‘رات جو مناظر اور خبریں سامنے آتی رہیں وہ بڑی دردناک، عبرتناک اور قابل نفرت تھیں گلوبل صمود فلوٹیلا پر
امام کعبہ الشیخ عبد الرحمن السدیس نے بالکل درست فرمایا کہ ہم ایسے زمانے میں ہیں جہاں حق و باطل خلط ملط ہوگئے ہیں، شبہات کی آندھیاں بڑھ گئی ہیں، اور بہت سے لوگ اسلام کی صورت بنا کر سامنے